پن چکی سے مکئی کا آٹا پیسنے کی روایت آج بھی زندہ

پن چکی سے مکئی کا آٹا پیسنے کی روایت آج بھی زندہ


مانسہرہ ( 24 نیوز )  دور جدید میں بھی قدیمی ثقافت کی اہمیت ختم نہ ہو سکی قدیمی دور کی پن چکی سے مکئی کا آٹا پیسنے کی روایت آج بھی زندہ ہے, پنچکی سے پیسا ہواآٹا لذت سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش بھی ہوتا ہے۔

مانسہرہ میں پن چکی دور جدید میں بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے،  مکئی کی فصل آتے ہی پن چکیوں میں آٹا پیسوانے والوں کا رش لگ جاتا ہے، کئی کئی ماه کا آٹا پیسوا کر رکھنا اس علاقے کا پرانا رواج ہے،  پنچکی دریا یا نالے سے نکالی گئی نہر کے بہتے ہوئے پانی پر بنی ہوتی ہے، جہاں ایک خاص انچائی سے گرنے والاپانی چکی میں لگے پتھر کو گھماتا ہے اور آٹا پیسا جاتا ہے، مانسہرہ کے لوگ ناشتے میں مکئی کا پراٹھا بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔

مکی کا آٹا لذیذ اور خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش بھی ہوتا ہے، مکئی کے آٹے کومانسہرہ کے لوگ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دوست اور عزیز و اقارب کو سوغات کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں۔ مانسہرہ کے گاؤں اور دیہاتوں میں بنی پن چکیاں جہاں آٹے کی ضرورت کو پورا کرتی ہیں،  وہیں صدیوں ے جاری ہماری روایات اور ثقافت کی بھی امین ہیں ۔