کشمیریوں کی جدوجہد۔۔۔۔۔ بیس کیمپ سے اقتدار کے ریس کیمپ تک

کشمیریوں کی جدوجہد۔۔۔۔۔ بیس کیمپ سے اقتدار کے ریس کیمپ تک


تحریر: سید امجدحسین بخاری

آج 24 اکتوبر ہے ، آج ہی کے دن بھارتی تسلط سے آزاد ہونے والے کشمیر کے حصے پر عارضی حکومت قائم کی گئی۔ اس حصے کو آزادکشمیر کا نام دیا گیا۔ عارضی حکومت کے قیام کا مقصدکشمیر کے باقی حصے کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا تھا۔وقت بدلتا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد جموں اور سری نگر تک پہنچ چکی تھی لیکن جنوری 1948 کو اقوام متحدہ نے کشمیر میں جنگ بندی کرا دی ۔ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا، پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر کو رائے شماری کے ذریعے حل کرانا چاہتے تھے۔ لیکن 1948 کو کیا گیا وعدہ آج 70 سال ہوگئے ایفا نہیں ہوسکا۔ آزاد کشمیر میں چند سیاسی خاندان قابض ہوگئے۔ کشمیرکمیٹی کے نام پر کشمیر کو ہی لوٹا جانے لگا۔

تحریک آزادی کشمیر کے نام پر بھاری وفود کے ہمراہ بیرون ملک کے دورے ہونے لگے۔ کشمیر فنڈ کے نام پر اکاونٹس بھرے جانے لگے ۔سیاسی قائدین اور ان کے خاندانوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جائیدادیں بنائیں ۔ لیکن کشمیر آزاد ہوا اور نہ ہی آزاد کشمیر کی تقدیر سنور سکی۔ ترقیاتی فنڈز کے ذریعے کشمیر کی شاہراہیں تو نہ بن سکیں مگر ہاں کچے مکانوں میں رہنے والے سیاستدانوں نے پاکستان کے پوش علاقوں میں کوٹھیاں ضرور بن گئیں۔کلہاڑیوں اور ٹوٹی بندقوں سے بھارتی فوج کا مقابلہ کرنیوالوں نے تین ماہ سے کم عرصے میں میرپور سے لے کر سری نگر تک کا علاقہ تو آزاد کرا لیا ، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کے بادشاہ ستر سالوں بعد بھی کشمیر کے مسئلے کو حل کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

آج تو پوری کشمیری قوم یوم تاسیس منا رہی ہے، لیکن سری نگر کے عقوبت خانوں میں آج بھی نہتے کشمیریوں کی تیسری نسل سڑ رہی ہے۔ اپنے درد کا مرہم تلاش کرنے کیلئے کشمیری جہاں عالمی اداروں کی جانب دیکھ رہے ہیں، وہیں مظفرآباد کے وزیر اعظم ہاوس اور اسلام آباد کے کشمیر ہاوس میں تشریف فرما کشمیریوں سے بھی شکوہ کناں ہیں۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ گذشتہ ستر سالوں سے پاکستان کے پرچم میں لپٹ کر دفن ہونے والے کشمیر میں نوجوانوں اور کشمیر ہاوس اسلام آباد میں مراعات کے حصول کیلئے سرگرم قیادت میں فرق کیا ہے؟ میرا دھیان مظفر آباد کے اسمبلی ہال ، نیلم اور چکار کے خوبصورت گیسٹ ہاوسز کی جانب بھی جاتا ہے۔ لیکن ان سب میں مجھے صرف ایک چیز کا فرق نظر آتا ہے ، اور وہ اپنے مققصد اور لگن سے دوری جکہ دوسری جانب منزل کو پانے کی جستجو ہے۔

لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والی کشمیری قیادت اور عوام کی ترجیحات میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ آزاد کشمیر کی قیادت جو 24 اکتوبر 1947 ء کو بیس کیمپ   کے طور پرجدوجہد کی قائد بنی تھی۔لیکن بیس کیمپ میں اقتدار کی ایسی ریس شروع ہوئی جو برادری ازم اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جبکہ دوسری جانب ستر سالوں سے لاشیں اٹھاتی قوم ہے۔میری مایوس نگاہیں جب  آزاد کشمیر کی قیادت کی شہ خرچیاں اور مقصد سے بیگانگی کو دیکھتی ہیں تو دفعتا َََ بوڑھا علی گیلانی، نوجوان برہان وانی ،اور ساتویں جماعت کا طالب علم میرے لئے امید کا پیغام بن رہے ہیں۔

میں اقتدار کی رسہ کشی اور ترجیحات کے فقدان سے پریشان ہوتا ہوں توپی ایچ ڈی سکالر منان وانی کی اپنے کیرئر پر آزادی کو ترجیح میری ڈھارس بندھاتی ہے۔ میں فنڈنگ کی امید میں بیٹھی آزاد حکومت کو دیکھتا ہوں تو اپنے مقصد کے حصول کیلئے اپنا کاروبار تک داؤ پر لگا دینے والے کشمیری تاجر خوابوں کی تعبیر بن کر سامنے آتے ہیں۔

اکہترواں یوم تاسیس جہاں الحاق پاکستان کیلئے کشمیر کے باقی ماندہ حصے کی آزاد ی کے عزم کا دن ہے۔ وہیں آزاد کشمیر حکومت کے احتساب کا لمحہ بھی ہے۔ اکہتر سالوں میں قیادت نے ریاستی عوام کیلئے کیا کیا ہے؟ تحریک آزاد ی کشمیر کیلئے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔ آج کا دن ہمارے اپنے محاسبے کا دن ہے کہ آخر کب تک ہم صرف گفتار کے غازی بنے رہیں گے۔ سوا لاکھ کشمیر شہدا، ہزاروں بیوائیاں اور یتیم بچے ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک ہم بیس کیمپ کو ریس کیمپ بننے سے روکیں گے۔ خدارا کشمیری شہدا کی روحوں اور جدوجہد میں مصروف غازیوں کی امیدوں کو مت توڑئیے۔ اٹھیے اورکشمیری عوام کے حقیقی ترجمان بن جائیے۔