چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے قافلہ میں شامل 6 گاڑیاں حادثہ کا شکار


 ایبٹ آباد (24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے قافلہ حادثہ کا شکار ہوگیا۔ قافلے میں موجود 6گاڑیاں آپس میں ٹکراگئیں لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار  زلزلہ متاثرین کی  بحالی کے لیے بالا کوٹ روانہ ہوئے۔ دوران سفر   چیف جسٹس کے قافلے میں شامل 6 گاڑیاں آپس میں ٹکرائی ،  حادثہ گاڑیوں کے اچانک بریک لگنے سسے رونما ہوا۔ ذرائع کے مطابق  جسٹس عمر عطا بندیال کی گاڑی بھی حادثہ میں شامل تھی ۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بیگم بشریٰ مانیکامیکے کیوں چلی گئیں؟

اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار  کی سربراہی میں زلزلہ متاثرین کے فنڈز  کرپشن پر از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔  چیف جسٹس نے سیکریٹری خزانہ سے پوچھا کہ بالاکوٹ شہر کا کیا بنا ؟ ساری رقم کہیں سرکاری خزانے میں تو نہیں ڈال سیکرٹریخزانہ نے کہا سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈز جاری دیتے ہیں۔

ثاقب نثار نے کہا کہ اربوں روپے کےملکی وغیر ملکی مخیر حضرات نے فنڈز دیے تھے  ان کا کیا بنا ؟سیکریٹری خزانہ نے عدالت کو کہا کہ باہر سے 2.89 ارب ڈالرز کی امداد ملی، ملکی امداد کا حساب موجود نہیں، ہوسکتا ہے ایرا کے پاس معلومات ہوں۔

نمائندہ ایرا نے عدالت کوبتایا کہ حکومت نے ایک ارب نوے کروڑ اور ڈونرز نے 100 ارب روپے دیئے تھے۔اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ معمولی رقم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایرا میں چاچے مامے بھرتی کیے گئے ہیں۔

اہم خبر : خواتین کے ناز، نخروں اور اداؤں کے راز سے پردہ اُٹھ گیا

جسٹس ثاقب نثار نے نمائندہ ایرا سےپوچھا کہ مانسہرہ جانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ جس پر انہیں بتایا گیا کہ 4 گھنٹے ، چیف جسٹس نے پوچھا ہیلی کاپٹر کا بندوبست کرسکتے ہیں؟ نمائندہ ایرا نے جواب دیا کہ حکومت کو کہنے پر مل جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں ابھی بالا کوٹ جارہا ہوں، اپنے پیسے پر جائیں گے، جو جو آنا چاہتا ہے قافلے کےساتھ آجائے، ہم ڈھابے وغیرہ سے کھانا کھا لیں گے۔

چیف جسٹس بذریعہ سڑک بالا کوٹ روانہ ہوئے  جہاں راستے میں جاتے ہوئے ان کا قافلہ حادثہ کا شکار ہوا۔