پی ایس پی نے مردم شماری کے نتائج سپریم کورٹ میں چیلنج کر دئیے


کراچی(24نیوز) پاک سرزمین پارٹی نے نئی مردم شماری کے نتائج کوسپریم کورٹ میں چیلنج کردیا، مصطفی کمال نے کہا  مردم شماری میں بیشتر علاقوں کو شمار ہی نہیں کیا گیا، شہر قائد کی 70 لاکھ سے زائد آبادی کم دکھائی گئی، پٹیشن دائر کرنے کا مقصد الیکشن کاملتوی کرانا نہیں۔
نئی مردم شماری میں کراچی کے اعداد و شمار کم دکھانے کے خلاف مصطفیٰ کمال ملک کی سب سے بڑی عدالت کا درواز کھٹکٹادیا۔ پی ایس پی کے چیئرمیں مصطفیٰ کمال نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دائر کردہ درخواست میں ادارہ شماریات، وفاقی حکومت، چئیرمین نادرا اور دیگر کو فریق بنایا ہے ، درخواست میں کراچی میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کے قافلے کو حادثہ،گاڑیاں ٹکراگئیں

پیٹیشن دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کے کراچی کی آبادی 2 کروڑ 40 لاکھ سے کم نہیں ہے، مگر مردم شماری میں اعدادوشمار 1 کروڑ 59 لاکھ بتائے گئے، مردم شماری کم ظاہر کرنے کی وجہ سے بجٹ میں کراچی کم پیسہ ملے گا ۔

مصطفی کمال نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کے وہ کراچی کی مردم شماری کے نتائج کو دیکھیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ درخواست دائر کرنے کا مقصد الیکشن کی تاریخ کو التواء کرنا نہیں ہے۔

پاک سرزمین پارٹی چیئرمیں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کے مردم شماری میں نادرا سے بھی مدد نہیں لی گئی اور نہ ہی تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کرایا گیا۔