نقیب قتل کیس کی جے آئی ٹی رپورٹ تیار، راؤ انوار ماورائے عدالت قتل کے ذمہ دار قرار


کراچی (24 نیوز) نقیب اللہ محسود قتل کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے راؤانوار کو ماورائے عدالت قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ جے آئی ٹی کو مقتول نقیب اللہ اور دیگر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ مل سکا۔

24نیوز کے مطابق کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ میں قبائلی نوجوان نقیب اللہ کی ہلاکت کے ملزمان کا جے آئی ٹی نے تعین کر لیا۔ نقیب اللہ کیس کی جے آئی ٹی تیار، راؤ انوار مجرم قرار، جے آئی ٹی کو نقیب سے متعلق مجرمانہ ریکارڈ نہیں مل سکا۔

یہ بھی پڑھیں: بے گناہ نقیب کو جعلی مقابلے میں مارا گیا

جے آئی ٹی رپورٹ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) بہاولپور کی رپورٹ کو بھی حصہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ راؤ انوار نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

جے آئی ٹی نے انکشاف کیا کہ ڈی این اے رپورٹ سے نقیب سمیت چاروں افراد کو الگ الگ قتل کیا گیا۔ چاروق افراد کو دو الگ الگ کمروں میں قتل کیا گیا۔ کمروں کی قالین سے چاروں کے خون کے شواہد ملے ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ آئندہ سماعت پر کیس کے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی سندھ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (آئی جی) آفتاب پٹھان کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ ڈی پی او بہاولپور کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا۔

جس کے مطابق محمد صابر اور محمد اسحاق کا کوئی جرائم پیشہ ریکارڈ نہیں ہے۔ جبکہ نقیب کا بھی ایسا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ میڈیا کے سامنے جھوٹ بول کر عدالت کو گمراہ کیا گیا اور اس دوران شواہد ضائع کیے گئے۔

پڑھنا نہ بھولیں:  ایس ایس پی راؤ انوار نے بیان ریکارڈ کرا دیا، چشم کشا انکشاف

خیال رہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ کے لیے جیو فینسنگ اور فرانزک رپورٹ کا سہارا لیا گیا۔