احمد فراز کو ہم سے بچھڑے دس برس بیت گئے

احمد فراز کو ہم سے بچھڑے دس برس بیت گئے


اسلام آباد( 24نیوز )رومانوی اورانقلابی شاعراحمد فراز کو مداحوں سے بچھڑے 10 برس بیت گئے، مزاحمتی شاعری کی وجہ سے ضیا دورمیں جیل گئے،انہیں لاتعداد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

اردو زبان اورغزل کو آفاقی شہرت بخشنے والے انقلابی شاعراحمد فراز کی آج دسویں برسی منائی جارہی ہے، احمد فراز کا اصل نام احمد شاہ تھا، احمد فراز کا 25 اگست 2008ءکواسلام آباد میں انتقال ہوا تھا۔

اردو ، فارسی اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری کے حامل احمد فراز نے ریڈیو پاکستان سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹرجنرل اور نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔

احمد فرازکی عمومی شناخت ان کی رومانوی شاعری ہے لیکن وہ معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند کرتے رہے،جس کی پاداش میں انہیں مختلف پابندیاں جھیلنی پڑیں اورجلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی،ان کے مشہور اشعار میں سے ایک شعر یہ بھی ہے کہ

اب کے ہم بچھڑےتوشاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

احمد فراز کے مجموعہ ہائے کلام میں ’تنہا تنہا‘، ’درد آشوب‘، ’نایافت‘، ’شب خون‘، ’مرے خواب ریزہ ریزہ‘، ’جاناں جاناں‘، ’بے آواز گلی کوچوں میں‘، ’نابینا شہر میں آئینہ‘ اوردیگر شامل ہیں۔

احمد فرازکو آدم جی ایوارڈ،ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز ،اباسین ایوارڈ،نقش ادب ایوارڈ سمیت لاتعداد ملکی وغیرملکی ایوارڈز سے نوازا گیا۔فرازکی شاعری کے انگریزی،فرانسیسی،پنجابی،جرمن،روسی اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمے شائع ہوچکے ہیں۔