اپوزیشن میں اختلافات نے پی ٹی آئی کا صدارتی محل کا سفر کر آسان دیا

اپوزیشن میں اختلافات نے پی ٹی آئی کا صدارتی محل کا سفر کر آسان دیا


 24نیوز: پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں موجودہ پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کا صدر منتخب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔ اپوزیشن میں اختلافات نے پی ٹی آئی کا صدارتی محل کا سفر مزید آسان کر دیا۔

سینٹ میں موجودہ پارٹی پوزیشن، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سپیکر یا وزیر اعلی کے حالیہ انتخابات میں پارٹیوں کو پڑنے والے ووٹ کے مطابق صدارتی انتخاب میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو سینٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 346 کے قریب صدارتی ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

 جبکہ مشترکہ اپوزیشن کے صدارتی ووٹوں کی مجموعی تعداد 323 کے لگ بھگ بنتی ہے، صدارتی انتخابات میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کو قومی اسمبلی، بلوچستان اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں میں واضع برتری حاصل ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے ووٹ مسلم لیگ ن سے زیادہ ہیں۔

 مسلم لیگ ن کو سینٹ اور پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں زیادہ صدارتی ووٹ ملنے کا امکان ہے، تاہم اگر اپوزیشن مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام رہی، تو پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی حلیف جماعتوں کے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی صدارتی ووٹوں کی تعداد 207 کے لگ بھگ بنتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے مجموعی صدارتی ووٹ تقریبا 116 بنتے ہیں، اب تک کی صورتحال کے مطابق پی ٹی آئی کے صدارتی امیدوار کو مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار پر ممکنہ طور پر تقریبا 23 ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito