کراچی، سندھ بھر کے اساتذہ مطالبات کے لئے سڑکوں پرآ گئے


کراچی (24 نیوز) سندھ بھر کے اساتذہ کا کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج ، پولیس نے اساتذہ پر ڈنڈے اور شیلنگ کی، واٹر کینن سے اساتذہ کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ ریڈ زون میں داخل ہونے پر متعدد اساتذہ کو حراست میں لے لیا گیا، پریس کلب اور ریڈ زون کے درمیان کا علاقہ میدانِ جنگ بنا رہا۔

تفصیلات کے مطابق فنکشنل لیگ کی رہنما نصرت سحر عباسی بھی اظہارِ یکجہتی کو پہنچیں، اساتذہ کا کہنا تھا کہ کہیں تنخواہیں نہ ملیں، کہیں اضافہ نہ ہوا تو کہیں مراعات نہیں دی جارہیں۔

اساتذہ نے وزیرِ اعلیٰ ہاوس جانے کا اعلان کیا تو پولیس کی بھاری نفری نے وزیرِ اعلیٰ ہاوس جانے والی سڑک کو بند کردیا۔

مظاہرین نے وزیرِ اعلیٰ ہاوس کی طرف پیش قدمی کی تو پولیس نے واٹر کینن سے اساتذہ کو پہلے دھویا، پھر آنسو گیس کی شیلنگ سے رلایا، لاٹھی چارج کی اور متعدد اساتذہ کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے دھاوے سے پانچ اساتذہ زخمی ہوگئے، جنہیں جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ منتشر اساتذہ ایک بار پھر پریس کلب پر اکھٹا ہوگئے اور مطالبات کی منظوری کے لئے پھر سے احتجاج شروع کردیا۔