نواز شریف کے قریبی ساتھی کمرہ عدالت سے گرفتار

نواز شریف کے قریبی ساتھی کمرہ عدالت سے گرفتار


لاہور(24نیوز)  چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پر  لاہور پولیس نے اراضی قبضہ کیس میں احاطہ عدالت سےمسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر کو گرفتار کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں کھوکھربرادران کےاراضی قبضہ کیس پرسماعت ہو ئی،   عدالت نےافضل کھوکھراورشفیع کھوکھرکوڈی جی ایف آئی اےکےحوالےکردیا 2گھنٹوں میں بائیوڈیٹاتیارکرکےپیش کیاجائے،  چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں2رکنی بینچ نےسماعت کی ، ڈی جی ایف آئی اے،ڈی جی اینٹی کرپشن اورڈی سی لاہورعدالت پیش ڈی جی ایل ڈی اےآمنہ عمران،ایس پی صدرسمیت دیگرافسران پیش ہوئے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  رقبےکااشتمال کرنےوالےافسران اب کہاں تعینات ہیں؟ تمام افسران،پٹواریوں،قانون گوتحصیلدارکی رپورٹ پیش کریں۔

عدالت کاشفیع کھوکھر سے کہنا تھا کہ تم علاقہ کےمنصف بنےہوئےہواورکرتےقبضےہو، اراضی پرتعمیرمارکیٹ کاآپریشن کرنےوالےتمام افسران معطل کردئیے،ایل ڈی اے سب ملےہوئےتھے،غریب اورمسکین لوگوں کوجائیدادوں سےمحروم کیاگیا، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جب1977میں استعمال  کردیاگیاتوپھراسکوتبدیل نہیں کیاجاسکتا، یہ طاقتورلوگ تھےاس لیے2013میں دوبارہ غیرقانونی طورپراشتمال  کرایا، غریب لوگوں کوجائیدادسےمحروم کرنےوالےافسران کونہیں چھوڑیں گے، یہ افسران اورپٹواری جہاں بھی تعینات ہیں،پتہ چلایاجائے؟

ملک شفیع کھوکھر کا کہنا تھا کہ خداکےبعدآپ منصف ہیں، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارملک شفیع پربرہم ہوگئے  اور کہا کہ پہلےیتیموں کیساتھ انصاف ہوگاجن کی زمینوں پرقبضےکئے، ڈائریکٹرایف آئی اےکدھرہیں؟شفیع کھوکھرکوسارادن ساتھ رکھیں،چیف جسٹس  نے ریمارکس دیئے کہ پتہ کریں یہ ارب پتی کیسےبن گئے؟ پٹواریوں کواپنےڈیرےپربٹھاکریتیموں کی زمینیں کیسےہتھیائیں، عدالت کاڈائریکٹرایف آئی کوملک شفیع کوپیارکیساتھ لیجاکرتحقیقات کرنےکاحکم  دیا، عدالت کا کہنا تھا کہ  سیف بڑےغصےسےدیکھ رہاہے جس پر ملک سیف نے جواب دیا  کہ نہیں جناب غصےسےنہیں دیکھ رہا۔

ملک سیف الملوک کھوکھر کا کہنا تھا کہ آپ ازخودنوٹس لیکراچھےاچھےفیصلےکررہےہیں، آپ نےڈیم فنڈسمیت دیگراچھےفیصلےکئےہیں، مجھےآپ سےانصاف کی توقع ہے،جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  انصاف بھی ہوگااورپھائےبھی اسی عدالت سےلگوگے، آج تک جوکرتےرہےاس پرخداکاخوف نہیں آیا، بیواؤں اوریتیموں کی زمینیں ہڑپ کرگئے میں ہمیشہ سےتمہیں جانتاہوں،بتاؤارب پتی کیسےبنے؟چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ  آپ لوگ اپنےعلاقےکےبادشاہ بنےہوئےتھے۔

آپ کےخلاف لوگ عدالت جانےسےڈرتےتھے، سب سےپہلےانصاف مسکینوں کےساتھ ہوگا۔1977میں نیازبیگ سکیم منظورہوئی اور کس قانون کےتحت2014میں افضل کھوکھرکی زمین یکجاکی گئی،  پہلےزمینوں پرقبضہ کیابعدمیں کنسولیڈیشن کروالی۔

 واضح رہے کہ لیگی ایم این اےافضل کھوکھر کے خلاف زمین پر قبضہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،  افضل کھوکھر نے 34مرلہ اراضی پر قبضہ کرکے کھوکھر پیلس تعمیر کرادیا،  کھوکھر کے خلاف درخواست ایک اوور سیز پاکستانی محمد علی نے دی تھی۔

 ایف آئی آر کے متن میں بیان کیا گیا کہ کئی سال قبل طارق محمودنامی شہری نے34مرلےزمین خریدی، اس جگہ پراب کھوکھرپیلس بن چکاہے، ذرائع کا کہنا تھا کہ ایس پی صدرسیدعلی نےملک افضل کھوکھرکوگرفتارکیا ،  ملک افضل کھوکھرکیخلاف تھانہ نواب ٹاؤن میں مقدمہ درج کیاگیاہے۔

افضل کھوکھر نے عدالت سے استدعا کی کہ عبوری ضمانت کرانے کیلئے وقت دیا جائے، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ اب کوئی وقت نہیں ملے گا۔