وزیر اعظم کا دورہ امریکہ،کیا کھویا،کیا پایا؟

تحریر:اظہر تھراج

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ،کیا کھویا،کیا پایا؟


وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پاکستان میں شادیانے بجائے جارہے ہیں تو بھارت میں ماتم کا سماں ہے، پاکستانی میڈیا اور عمران خان کے پارٹی ورکرز اسے کامیاب دورہ قرار دے رہے ہیں اور عمران خان کو دنیا کا بہترین لیڈر کے طور پر پیش کررہے ہیں،امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران مہمان کی تعریفوں کو پل باند ھے،جس ٹرمپ کو کچھ عرصہ پہلے پاکستانی دھوکے باز نظر آتے تھے اچانک سے بہت اچھے لگنے لگے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہی کیا ہے جو اس کے ملک کے مفاد میں ہے۔یہ لوگ دوسرے ممالک کی نفسیات سے کھیلتے ہیں،ٹرمپ جانتے تھے کہ عمران خان کو اپنی تعریفیں پسند ہیں جس پر انہوں نے زیادہ زور دیا اور اپنے مہمان کو بولنے کیلئے کم وقت دیا،دوسرا پاکستان کی کمزوری کشمیر ہے جس پر ٹرمپ اچھے اندازمیں کھیلے اور ثالثی کی پیشکش کرڈالی۔دوسرا پاکستان کا کولیشن فنڈ ہے جو ٹرمپ نے بند کردیا تھااس کو بحال کرنے کا عندیہ بھی دےدیا ۔

فارن پالیسی کے حوالے سے موجودہ حکومت اور  عسکری قیادت ایک پیج پر ہے ،جس بات کا وزرا بھی بڑے فخر سے اعتراف  کرتے ہیں،خو د وزیر اعظم عمران کی بھی اپنے خطاب اور انٹرویوز میں ذکر بھی کرتے ہیں،امریکہ سے خارجہ تعلقات میں بریک تھرو،امریکہ کی طرف سے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے پیچھے ایک ورکنگ ہے جو ایک عرصے سے جاری تھی ۔یقینا یہ سفارتی کامیابی ہے جو پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت کے سر جاتی ہے۔اس سے قبل امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے،دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا،ان تعلقات میں کبھی سردی تو کبھی گرمی آتی رہی ہے۔دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ پاکستان کے قیام میں آنے سے ہی شروع ہو جاتی ہے تاہم حالیہ تناظر میں پاکستان اور امریکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں،فغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات میں جو تعطل آیا تھا وہ افغانستان پر 2001 میں امریکی حملے کے بعد بحال ہو گیا تھا،تاہم اس رشتے میں تناﺅاور بے اعتباری برقرار رہی، تعلقات کا بدترین مرحلہ 2011 میں اس وقت شروع ہوا جب لاہور میں سی آئی اے کی ایک ٹھیکے دار کمپنی کے ملازم ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو قتل کردیا تھا۔ سلالہ چوکی پر نیٹو افواج کا حملہ، اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں پکڑے جانا، نیٹو رسد کی معطلی اور شمسی ایئر بیس خالی کرایا جانا سب ایک دوسرے پر کیے گئے واروں کی کڑیاں ہیں اور پھر ایک معاملہ میمو گیٹ کا بھی سامنے آیا، نواز شریف کی حکومت میں بھی ”ہاں“اور ”ناں“جیسی صورتحال برقرار رہی،دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کی وجہ پاکستان کا چین سے معاشی معاہدہ اور روس سے تعلقات میں بہتری ہے،امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے،اس کو خوش کرنے کیلئے پہلے سید صلاح الدین پھر ان کی تنظیم حزب المجاہدین پر پابندی لگادی جو پاکستان سمیت دوسری عالمی قوتوں کوبھی ناگوار گزری۔

ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ امریکا افغانستان میں اسامہ کو پکڑنے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے آیا تھا،اسامہ تو ایک بہانہ تھا،یہ جنگ لڑتے لڑتے امریکہ اور نیٹو اتحادیوں نے جہاں لاکھوں لوگوں کو قتل کیا وہیں اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر بھی ضائع کیے۔ اب افغانستان کے انسانوں سے تو شاید ا س کو کچھ لینا دینا نہ ہو، مگر اپنے لاکھوں، کروڑوں ڈالر کے لیے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے،عام آدمی اسے افغان مسلمانوں کیلئے ٹرمپ کی ہمدردی یا محبت سمجھ رہا ہے تو غلط ہے امریکہ کبھی بھی کسی انسان سے محبت نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں اور اسی سے وہ محبت بھی کرتا ہے۔امریکہ ایک طرف تو طویل جنگ سے اکتا کر اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے ۔

پاکستان کی عمر 73 برس ہے اور افغان جنگ کی عمر چالیس برس۔گویا پاکستان کی ساٹھ فیصد زندگی افغان لڑائی اور اس کے اثرات تلے گذر گئی اور گذر رہی ہے،اس لڑائی کا محرک اورسرپرست امریکہ رہاہے،روس کیخلاف جنگ ہو یا پھر دہشتگردی کے نام پر طالبان کیخلاف لڑائی۔دونوں صورتوں میں ہم امریکہ کے ساتھ رہے ہیں،ڈالروں کی لذت میں ہم نے اپنے ملک اور قوم کا نقصان کیا ہے،امریکہ نے ہمیشہ ہمارے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائی ہے،اس بات سے انکار نہیں کہ امن کی صورت میں برسوں سے جلتے ہوئے پہاڑوں، دہکتے ہوئے ریگزاروں میں محبت امن کے پھول کھلیں گے۔

امریکی صدر نے پاکستان کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دئیے ہیں کیا پاکستان اس کو پورا کرپائے گا،کیا طالبان امریکہ سے معاہدہ کرنے پر مان جائینگے؟ طالبان پاکستان کی بات نہیں مان رہے۔ پاکستان کا طالبان پر وہ کنٹرول نہیں رہا، جو پہلے تھا۔ افغانستان کے ستر فیصد سے زائد حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔ امریکا تو کجا وہ کسی کو خاطر میں نہیں لارہے۔ وہ امریکا کو ملک سے بھگانے کے ساتھ ساتھ غنی حکومت کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسرا ایران کے خلاف بننے والے اتحاد کےلیے پاکستان کی حمایت مانگی جارہی ہے۔ امریکا ایران کو مسلسل دھمکیاں دے رہا، بحری بیڑے سے اس کا گھیرائو کرچکا ہے۔

ہم نے ایک بیانیہ بنایا ہوا ہے کہ امریکہ بے وفا ہے،تو امریکہ نے بھی ہمارے بارے میں ایک بیانیہ طے کیا ہوا کہ ہم بے وفا ہیں،اس کو بھی ہم سے شکایات ہیں،بھارتی لابی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے امریکہ کی اپنی سوچ ہے،امریکہ سے مساوی تعلقات قائم ہونگے تو اس بات کو بھول جائیں،بین الاقوامی تعلقات میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان   کے  جغرافیہ اور تجارت کی وجہ سے اہمیت ہے اور اگر ہم اسے بنائے رکھے تو قائم رہے گی، افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان پاکستان کو سہولتکار کا کردار ادا کرنا ہے، پاکستان ملٹری ٹو ملٹری فائدہ ہوگا،سفارتی اہمیت بڑھے گی،کشمیر پر ثالثی سے تو کے معاملے پرتو بھارت مکر گیا ہے،بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم مودی نے امریکی صدر نے کشمیر کے حوالے سے کوئی ایسی بات ہی نہیں کی ہے،بھارت کبھی بھی کسی تیسرے ملک کی ثالثی قبول نہیں کرے گا،حالانکہ چین بھی اس معاملے پر ثالثی کی پیشکش کرچکا ہے،سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ انڈیا نے اس معاملے پر کبھی بھی تیسرے فریق کو شامل کرنے کی اجازت نہیں دی اور بحیثیت زیادہ طاقتور فریق، ان کی اجازت کے بغیر کوئی اور ثالثی کرنے نہیں آ سکتا۔

ماضی میں پاکستان اور امریکہ کا تعلق اس ساس اوربہو جیسا رہا ہے جس میں بہو نے جتنے مرضی جتن کیے ساس خوش نہیں ہوئی،بہو اپنے گھر کیلئے تارے بھی توڑ لائے تو سا س کہتی ہے کہ ”آپ نے کیا ہی کیا ہے“۔ پاکستان نے امریکہ کیلئے ستر ہزار کے قریب اپنے شہریوں کی جانیں قربان کردیں،اپنے علاقوں کو میدان جنگ بنایا،اپنی معیشت تباہ کی،پونے دو سوکھرب روپے کا نقصان اٹھایا پھر بھی امریکی ساس کہتی رہی ڈو مور،ڈو مور۔اس بار ساس نے کچھ دانشمندی کا کام کیا ہے ،ڈومور کا مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ تعاون مانگا ہے۔پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے کہ ایک ساس کسی سے تعلق بنانے کیلئے ایک بہو سے تعاون مانگ رہی ہے،اب بہو کیلئے امتحان ہے کہ وہ یہ رشتہ کیسے قائم کروا پاتی ہے۔

پاکستان کیلئے  کوئی اچھی خبر ہو،اس کیلئے بڑی خبرہو اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ بھارتی میڈیا میں ،بھارت میں کیا ردعمل سامنے آتا ہے،سفارتی محاذ پر امریکہ میں پاکستان کو شاندار کامیابی ملی ہے،اور اس کی کامیابی کا ثبوت بھارت میں ماتم کا سماں ہےبھارتی میڈیا گریہ وزاری کرتا ہوا نظر آرہا ہے، پاکستان کی برائی کے حوالے سے تو بھارت میں ہمیشہ جشن رہا ہے لیکن پاکستان کی کامیابی کے حوالے سے بھارت کارویہ منفی رہا ہے،بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے،وزیر اعظم عمران خان کے دورہ کے دوران  پاکستان نے امریکہ کے ساتھ نہ صرف تعلقات استوار کیے ہیں بلکہ بھارت کی جو کوشش رہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے بری طرح ناکام ہوئی ہے،اس کا ایک دلچسپ منظر ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بڑی خرابی دونوں ممالک کی سکیورٹی اسیبلشمنٹ کے درمیان بدگمانیاں تھیں،جو کئی سالوں سے جاری تھیں،ماضی میں ،پینٹا گان اور جی ایچ کیو،سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان بدگمانیوں نے جنم لیا،جنہوں نے دونوں ممالک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں دوریاں پیدا کیں، پاکستان میں سیاسی قیادت میں تبدیلی کے ساتھ جس طرح سول ملٹری قیادت ایک صفحہ پر اکٹھا ہوئی ہے،جس طرح سول اور ملٹری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو مسلح جتھوں سے آزاد کروانا ہے، پاکستان کی سکیورٹی اور تمام امور پاکستان کی معاشی صورتحال کے ٹھوس ہونے سے منسلک ہے،اس نے پاکستان کے امیج کو بہتر کیا ،امریکہ نے اس کو نوٹس کیا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پینٹا گون کو انگیج کیا اور پاکستان کیخلاف بدگمانیوں کو دور کیا،دونوں مماک کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ تازہ ڈویلپمنٹ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،آرمی چیف نے ٹھوس دلائل سے امریکی بدگمانیوں کو دور کیا ہے،ان کوششوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری لانے میں اہم کردار ہے، پاکستان میں صاف ستھری حکومت ہوگی،منی لانڈرنگ سے چھٹکارا پایا جائے گا،مسلح جتھوں سے پاکستان کو پاک کیا جائے گا ،ان یقین دہانیوں نے دونوں ممالک میں اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer