الیکشن ایپلٹ ٹربیونل نے عمران خان کیخلاف محفوظ فیصلہ سنادیا


لاہور( 24نیوز ) الیکشن ایپلٹ ٹربیونل نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف محفوظ فیصلہ سنادیا، میانوالی کے حلقہ این اے 95 سے عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی،ایپلٹ ٹریبونل نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 95 میانوالی سے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
جسٹس فیصل زمان پر مشتمل ایپلٹ ٹریبونل نے عمران خان کی اپیل پر سماعت کی جس دوران وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے تھے،چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل نے مو¿قف اختیار کیا تھا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے مکمل اثاثے ظاہر کیے اور کچھ چھپایا نہیں بلکہ وضاحت کی ہے۔
عمران خان کے وکیل نے وطن پارٹی سمیت 2 فیصلے عدالت میں پیش کیے جب کہ انہوں نے شیخ رشید اور شکیل اعوان کیس کے فیصلے کی کاپی بھی جمع کرائی،بابر اعوان نے دلائل کے دوران کہا کہ ریٹرنگ افسر نے حقائق کے برعکس اور تکنیکی بنیاد پر عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔

یہ بھی پڑھیں:   بیماری کا بہانہ کرنے والے اسحاق ڈار لندن کی سڑکوں پر ہشاش بشاش
وکیل نے کہا کہ بروقت بیان حلفی جمع نہ کرانے اور اثاثوں کی مالیت ظاہر نہ کرنے کا الزام لگا کر کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے، عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے۔
دوسری جانب عمران خان کے خلاف اعتراض اٹھانے والے جہانداد خان کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کا حلف نامہ اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہیں اور ہر صفحے پر ان کے دستخط مختلف ہیں۔
اپیل ٹریبونل نے کچھ دیر بعد محفوظ کردہ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور چیئرمین پی ٹی آئی کو میانوالی کے حلقے سے این اے 95 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔