اپوزیشن لیڈر کا نگران وزیر اعظم کیلئے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کا فیصلہ


نگراں وزیراعظم کے نام پر حکومت اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم نہ ہوا ، خورشید شاہ نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی، آج سپیکر کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے 2 نام بھجوا دوں گا۔

اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم کے درمیان 5 میٹنگز ہونے کے باوجود بھی نگران وزیر اعظم کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا،  ذرائع کے مطابق نواز شریف جج یا بیوروکریٹ کو بطور نگران وزیر اعظم نہیں دیکھنا چاہتے، وزیراعظم خاقان عباسی نے نواز شریف کو منانے کیلئے مہلت مانگی ہوئی ہے،  حکومت کی جانب سے تاحال  جواب نہ آنے پر خورشید شاہ نے اعلان کردیا کہ اب وزیراعظم سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی،انھوں نے کہا کہ  آج سپیکر کو پارلیمانی کمیٹی کے لیے 2 نام بھجوا دوں گا۔

 یاد رہے کہ خورشید شاہ پہلے بھی  کہہ چکے ہیں کہ  کہا کہ حکومتی رویے پر مایوسی ہو رہی ہے  اور امکان  ظاہر کیا تھا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا۔

 آصف زرداری کاذکا اشرف کو ترجیح: 

آصف علی زرداری نے پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی۔جس میں نگراں وزیراعظم کے تقرر کے حوالے سے بات کی گئی۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ذکاءاشرف نگراں وزیراعظم کیلئے ہماری ترجیح ہیں۔

  نگران وزیر اعظم سلیکشن کا طریقہ کار: 

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کے لیے اٹھارہویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کیے گئے ہیں۔آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق کرلیں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔
قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے، اس کمیٹی میں قائدِحزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ ارکان اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے ۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔
اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی۔ یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔2013میں بھی نگران وزیراعظم کا تقرر الیکشن کمیشن کے فیصلے پرہوا۔

نگراں وزیر اعظم کیلئے حکومتی ارکان:  

نگران وزیر اعظم کیلئے ہر جماعت کی جانب سے اپنے اپنے نام پیش کیے جارہے ہیں ، حکمران جماعت نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر کا انتخاب کیا ہے۔

پیپلز پارٹی امیدواران: 

 چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نگران وزیر اعظم کے لیے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے ناموں کو فائنل کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم کو نام دے دیئے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری اور  آصف علی زرداری نےذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام فائنل کیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دونوں امیدواروں کو ٹیلی فون کیا اور اپنا تبادلہ خیال کیا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ دونوں امیدوار محنتی اور ایماندار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ناموں پر غور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے زیر نگرانی انتخابات سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ ذکا اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور جلیل عباس سابق سفیر رہ چکے ہیں۔

تحریک انصاف : 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق گورنر عشرت حسین اور معروف صنعت کار عبد الرزاق داؤد کے نام دیئے گئے ہیں۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے  تصدق حسین جیلانی کا بھی نام تجویز کیا گیا ہے۔

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت کب ختم ہو گی: 

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی۔جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

 

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔