اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینلز پر پانچ وقت اذان دینے کا حکم معطل کردیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے چینلز پر پانچ وقت اذان دینے کا حکم معطل کردیا


اسلام آباد(24نیوز) ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے رمضان ٹرانسمیشن ضابطہ اخلاق سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کردیا، ڈویثرن بنچ نے چینلز پر پانچ وقت اذان دینے کا حکم معطل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے رمضان ٹرانسمیشن ضابطہ اخلاق/سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کردیا۔ ڈویثرن بنچ نے چینلز پر پانچ وقت اذان دینے کا حکم معطل کردیا۔اس سے قبل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پانچ وقت اذان سمیت ماہ مقدس کے حوالے سے دیگر احکامات جاری کئے تھے۔

واضح رہے کہ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ مغرب کی اذان سے قبل اشتہارات نہ چلانے کا حکم بھی معطل ہے۔ انڈین کنٹنٹ چلانے کے حوالے سے احکامات بھی غیرقانونی قراردے دیے گئے۔درود شریف اورملکی سلامتی کی دعائیں چلانے کا حکم بھی معطل تصور ہوگا۔ رمضان ٹرانسمیشن ضابطہ اخلاق عمل درآمد کے لئے بنائی جانے والی وزارت داخلہ کی کمیٹی غیرقانونی قرار دے دی گئی۔ عدالت نے پہلے عشرے کی جو عمل درآمد رپورٹ مانگی ہے وہ پیمرا کا اختیار ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نگران وزیراعظم کون؟ آصف علی زرداری نے بتا دیا 

 علاوہ ازیں ڈویثرن بنچ نے رمضان المبارک کے تقدس پر سمجھوتا نہ کرنے سمیت دیگر احکامات غیر قانونی قرار دے دئیے۔ پیمرا کے پاس کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل درآمد کرانے کا مکمل اختیار موجود ہے۔ ہائی کورٹ ریگولیٹر کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔ پیمرا ریگولیٹر ہے وہ ہی چینلز کو اپنے ضابطہ اخلاق کا پابند بنائے۔ چینلز رمضان کے تقدس کو مدںظر رکھتے ہوئے خود اقدامات اٹھائیں عدالت کاتحریری فیصلہ 26 صفحات پر مشتمل ہے۔ نجی چینل اور پاکستان پراڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے 9 مئی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔