ہم اسٹیبلشمنٹ نہیں،پاکستان کےساتھ ہیں،میاں صاحب اپنا بتائیں: زرداری


اسلام آباد( 24 نیوز) آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھٹو صاحب کے زمانے میں فاٹا میں سیاست شروع کرائی، این ڈبلیو ایف پی اور فاٹا کے لوگوں کو شناخت چاہیے تھی۔ سیاسی طاقتیں اور جمہوریت ہی دہشتگردی کا علاج ہیں۔میاں صاحب ہمیشہ ڈبل گیم کھیلتے ہیں۔

شہر اقتتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میاں صاحب ہم سے گیمز کھیل رہے تھے ،آج بھی کھیل رہے ہیں۔ بےنظیر  بھٹو فاٹا انضمام کا معاملہ عدالت لے کر گئیں تھیں۔ جب میں صدر تھا تو جرگہ بلایا تھا ، ان سے پوائنٹس لیے تھے۔ جنگ کی ایک تشریح "نو لاء"ہوتی ہے. فاٹا انضمام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر شہید کی سوچ تھی۔

انہوں نے کہا کہ بھٹو صاحب نےکہا تھا 10سال کے اندرفاٹا کا انضمام صوبے کیساتھ کردوں گا۔ آج بہت بڑادن ہے اور میں مبارکباد دیتاہوں۔امید رکھتا ہوں فاٹا انضمام کا معاملہ مزید آگے بڑھے گا۔ آج بھٹواوربےنظیرکافاٹا کےبارےخواب پوراہونےجارہا ہے۔ فاٹا انضمام کی مخالفت چند لوگ اپنےایجنڈے کی وجہ سےکرتےآئےہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ تمام مسائل کا حل صرف سیاست میں ہی ہے۔ جب میں صدر تھا تو ایوان صدر میں جرگہ بلایا تھا۔ فاٹا کا انضمام پاکستان اور عوام کے حق میں ہے ۔ 

یہ خبر بھی لازمی پڑھ لیں: کس جماعت کے ہاتھ کون سا انتخابی نشان آیا؟؟؟ جاننے کیلئے خبر پڑھیں

آصف علی زرداری نے نواز شریف کا تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں ۔ نوازشریف کا کہنا ہے  کہ مشرف کے معاملے پر زرداری میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نوازشریف کے پاس جاتا تو اور بہت سے کام کرواتا ،اس معاملے سےمیراکیا تعلق۔ ہم نے مشرف کو دودھ سے مکھی کی طرح نکالا۔ ہم نےفاٹا میں سیاست کو متعارف کرایا۔ میں نے انہیں ان ہاؤس رکھنے کیلیے پنجاب دیا،وہ پنجاب نہیں لےسکتےتھے۔ 

پڑھنا مت بھولئے: نیب کے بلاوے، ن لیگی چھپ گئے

سابق صدر نے کہا کہ مولانا صاحب سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ مشرف کو نکالنا میرے لیے اشد ضروری تھا۔ نگران وزیراعظم کےناموں میں ایک بزنس مین ہےاورایک فارن سیکرٹری ہے۔ نگران وزیراعظم کے لیے ریٹائرڈ ججز کے نام نہیں دیے۔ ہم نے ایک بزنس مین اور ایک بیوروکریٹ کا نام دیاہے۔