شرح نمو 5.8 فیصد، مہنگائی 13 سال کی کم ترین سطح پر رہی: اقتصادی سروے


اسلام آباد (24 نیوز) وفاقی حکومت ایک سال کا بجٹ پیش کرے گی۔ حکومت نے اقتصادی سروے 17-2018 پیش کر دیا۔

وفاقی دارالحکومت میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ رواں سال شرح نمو 5.8 فیصد رہی۔ مہنگائی کی شرع 13 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ مہنگائی کی شرح 7.89 سے کم کر کے 3.8 تک لائے۔

متعلقہ خبر: ن لیگ حکومت اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام 

انھوں نے بتایا کہ رواں سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی آمدن 3 ہزار900 ارب رہی۔ پاکستان میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔مشیرخزانہ  کا کہنا تھا کہ تین ماہ کا بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا۔اپنی کارکردگی لےکر الیکشن میں جائیں گے۔

سروے کے مطابق رواں مالی سال بیشتر اقتصادی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔ رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 5.79 فیصد رہی۔ اقتصادی ترقی کی شرح 13 سال کی بلند ترین شرح ہے۔ ایف بی آر، ٹیکس وصولیاں 4 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13ارب 70کروڑ ڈالر رہا۔ تجارتی خسارہ اور برآمدات کے اہداف حاصل نہ ہوسکے۔ سرمایہ کاری اور نیشنل سیونگز کے اہداف حاصل نہ ہو سکے۔ زرعی ترقی کی مجموعی شرح 3.81 فیصد رہی۔

اہم فصلوں کی پیدوار 3.57، دیگر فصلوں کی پیدوار میں 3.33 فیصد اضافہ ہوا۔ کپاس میں شرح نمو 8.7 فیصد رہی۔ لائیو سٹاک میں شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔ جنگلات میں شرح نمو 7.2 فیصد ہو گئی۔ معدنیات میں شرح نمو 3 فیصد رہی۔

ضرور پڑھیں: نئے بجٹ کے حوالے سے وزیر اعظم کو نواز شریف کا حکم نامہ مل گیا 

صنعتی سیکٹر کی پیداوار میں اضافہ کی شرح 5.80 فیصد رہی۔ بڑی صنعتوں کی پیداور میں 6.13 فیصد ہوا۔ چھوٹی صنعتوں کی پیداوار میں 8.18 فیصد اضافہ ہوا۔

سروسز سیکٹر کی پیدوار میں ترقی 6.43 فیصد رہی۔ مواصلات کے شعبہ میں شرح نمو 9.1 فیصد رہی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں شرح نمو 3.5 فیصد تک رہی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013 میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور امن وامان کے بحران سے نکال دیا ہے۔۔اگر سیاسی بے یقینی نہ ہوتی تو معاشی شرح نمو میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا. 80 فیصد بجٹ جاری منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا۔ایک سو ارب روپے کا اسپیشل بجٹ مختص کیا گیا ہے۔