وزیر اعلیٰ قتل کا حکم دیتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے

وزیر اعلیٰ قتل کا حکم دیتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے


نئی دہلی( 24نیوز )ایساکم ہی ہوتا ہے کوئی بڑی شخصیت فون پرکسی کے قتل کا حکم دیتے ہوئے پکڑی جائے،ایساکام ریاست کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہوگیا،ان کو پولیس نے نہیں کیمرے کی آنکھ نے پکڑلیا۔

بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کو کیمرے کی آنکھ نے موبائل فون پر بے رحمانہ قتل کی ہدایت دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا، اپنے سیاسی حریفوں کی بدعنوانی کے الزامات پر مشتمل آڈیو اور وڈیو سی ڈی جاری کرنے والے کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کیمرے کے سامنے قتل کی ہدایت دے بیٹھے۔

وزیر اعلیٰ کمارسوامی موبائل فون پر بات کرتے ہوئے میڈیا کی موجودگی اور لمحے لمحے کو محفوظ کرتے کیمروں کو نظر انداز کر گئے اور کال کرنے والے کو بے رحمانہ شوٹ آﺅٹ کی ہدایت دیتے رہے۔وزیراعلیٰ کمار سوامی کی جماعت جنتا دل جو سیکولر پارٹی ہے کے مقامی رہنما پرکاش کو قتل کردیا گیا تھا جس کی اطلاع فون پر آئی تو وزیراعلیٰ نے فون پر ہدایت جاری کی کہ پرکاش اچھا آدمی تھا، مجھے نہیں معلوم کس نے بے ضرر آدمی کو قتل کیا، قاتلوں کا بے رحمانہ شوٹ آﺅٹ کردو، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وزیراعلیٰ کمار سوامی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور بے رحمانہ شوٹ آﺅٹ کی ہدایت کو جذباتی ردعمل قرار دیتے ہوئے دفاعی بیان داغ ڈالا۔ترجمان وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقامی رہنما پرکاش کے بہیمانہ قتل پر وزیراعلیٰ دل گرفتہ ہیں،ویڈیو میں کہے گئے الفاظ ہدایت نہیں بلکہ جذباتی طور پر ادا ہوجانے والے کلمات تھے۔

واضح رہے کہ جنتا دل کے مقامی رہنما کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت گولیاں مار کر قتل کردیا تھا جب وہ اپنی کار میں کرناٹک کے ضلع مندیا جارہے تھے کہ مدور کے مقام پر ان کی کار پر فائرنگ کی گئی۔ کرناٹک میں جنتا دل اور کانگریس کی مخلوط حکومت قائم ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer