قومی اسمبلی اجلاس شروع،ارکان کا بھارت کو بھر پور جواب



اسلام آباد(24نیوز)پارلیمنٹ ہاﺅس میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوگیا ہے۔

ڈٹ کر بھارت کو جواب دینا ہوگا:خواجہ آصف

سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسمبلی سے بھارت کو مضبوط جواب جانا چاہیے،مشترکہ اجلاس بلایا جائے،پوری دنیا کو پتا چلے کہ پوری قوم،سیاستدان پاک فوج کے ساتھ ہیں،یہ قومی ضرورت ہے،آج ہی بھارت کو بھر پور جواب دینا ضرورت ہے۔

 خواجہ آصف نے کہا کہ  متحدہ عرب امارات  بھارت کو گیسٹ آف آنر کا درجہ دے رہا ہے۔ ہمیں اس معاملے پر او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ سشما سراج کو مہمان خصوصی بلانے پر ہمیں اپنا درعمل دینا چایئے، جو نہتے کشمیریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

پاکستان کی جغرافیائی حدود اور عوام کی جانوں کا تحفظ مانگتے ہیں۔ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر پوری قوم کو ایک موقف پر ڈٹ کر بھارت کو جواب دینا ہوگا۔ کشمیریوں کی مدد کرنے کے لئے ہچکچانا نہیں چاہئے۔

ضرور پڑھیں:جگن@16،9اکتوبر2019

مشترکہ اجلاس،اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں:سید فخر امام

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سید فخر امام نے کہا ہے کہ مودی جیسا تنگ نظر بھارتی وزیر اعظم آج تک نہیں دیکھا،بھارت کے حملے کا بھر پور جواب دیا جاءے،قوم ،افواج مل کر پاکستان کا مقابلہ کرتا ہوں،اپوزیشن کی تجویز کی بھرپور حمایت کرتا ہوں،باہر بیٹھی قیادت کو بھی بلا کر اے پی سی بھی ہونی چاہءیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ جب اسامہ کو نشانہ بنایا گیا تب بھی جواب ملنا چاہئے تھا۔

بھارت یہ یاد رکھے جہاد ہمارے لئے حلال ،ہمارے ایمان کا حصہ ہے:خورشید شاہ

پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ  آج سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کوبات کرنے کی اجازت دینا چاہئے تھی۔ تجربہ ہمارا زیادہ ہے۔اپوزیشن بات کرتی تو اچھا تاثر جاتا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس جاری ،آج ایوان میں سب کو اس معاملے پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ آج وزیراعظم کو یہاں ہونا چاہئے ،کوئی بزنس ایوان کا نہیں چلنا چاہئے۔

ویڈیو دیکھیں:

انہوں نے کہا کہ بھارت یہ یاد رکھے جہاد ہمارے لئے حلال ہے اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔ ہندوستان ہمارے اندرونی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم پت حملہ کرنا کا خواہشمند ہے۔ اپوزیشن بارڈر کے فرنٹ پر کھڑے ہونے کو تیار ہے۔ پاکستان کی عوام اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کو تیار کھڑی ہے۔

پاکستان کو بھارت سے تجارت پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے:ایاز صادق

ن لیگ کے رہنما ایاز صادق  نے اظہار خیال  میں کہا کہ ہمیں او آئی سی ممبر ممالک میں اپنے وفود بھیجنے چاہیے۔ او آئی سی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ممالک کی اجازت کے بغیر کسی کو بلائے۔ پاکستان کو کسی صورت او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ پاکستان کے لیے ٹیسٹنگ ٹائم ہے۔ جب عزت سے جینے کا فیصلہ کر لیا تو آج ہی مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے۔ پاکستان کو بھارت سے تجارت پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے۔

ویڈیو دیکھیں:

بھارتی جارحیت پورے خطے کے لیے خطر ناک ہے:حنا ربانی کھر 

سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ آج ہم موجودہ صورت حال پر متحد ہیں ،مودی کے آنے کے بعد بھارت مزید جارحانہ ہوگیا ہے ، ایسے ہی پیغامات بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے دیے جارہے ہیں، بھارت میں ایک گائے ذبح کی پاداش میں مسلمانوں کا خون بہایا گیا ،ہمیں پارلیمنٹ کی جانب سے ایک حکمت عملی وضع ہونی چاہیئے، انڈیا ڈومیسٹک جارحیت سے بین الاقوامی جارحیت تک پہنچ چکی ہے جو پورے خطے کے لئے خطرناک ہے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کہہ چکے کہ بھارت کو کشمیریوں سے کوئی ہمدردی نہیں صرف کشمیر کی زمین سے دلچسپی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو خود یہاں آکر بتانا چاہیئے پاکستان او آئی سی کا ممبر ہے، ہمارا ہمسایہ ہمارے خلاف بہت دفعہ جارحیت کرچکا، ہمیں اپنے برادر اسلامی ممالک کو بتانا چاہیئے کہ وہ کس طرح کی جارحیت ایک مسلمان ملک اور کشمیری عوام کے ساتھ کررہا ہے او آئی سی میں سے گیسٹ آف آنر دیا جارہا ہے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer