مئیر کراچی نے شہر کی حالت بدلنے کے لیے وسیع اختیارات مانگ لیے

مئیر کراچی نے شہر کی حالت بدلنے کے لیے وسیع اختیارات مانگ لیے


کراچی (24نیوز) کراچی کے شہری مسائل کیسے حل ہوں؟ میئر کراچی وسیم اختر مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے اختیارات کا رونا رونے لگے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رپورٹ جمع کرا دی۔

مئیر کراچی نےسندھ حکومت کے خلاف پھر الزام تراشیاں شروع کردیں۔ان کا کہنا ہے سندھ حکومت بغیر کسی سیاسی مینڈیٹ کے کراچی کے معاملات چلارہی ہے،2008سے پیپلز پارٹی سندھ حکومت میں ہے، اور شہر کی سڑکیں، پانی اور سیوریج کا نظام تباہ حال ہوچکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی کو سزا دی جا رہی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ بلدیاتی ایکٹ 2013کے تحت سندھ حکومت نے تمام بلدیاتی اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ سٹرکوں، پلوں، انڈرپاسز، نالوں کی تعمیرات اور دیگر معاملات بھی سندھ حکومت کے پاس ہیں۔میں اس شہر کا مئیر ہوں، صرف روز مرہ کے امور چلانے کا کہا جا رہا ہے۔ کراچی کے معاملات وہ چلا رہے ہیں جو کراچی میں رہتے تک نہیں ، پیپلز پارٹی کی غفلت کے باعث شہر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، شہر کو مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہر کے سوک معاملات کی حدود بندیاں اور بے جا تقسیم شہر کی تباہی کا باعث ہیں۔شہر میں بے تحاشہ ادارے سوک حد بندیوں کا دعوے دار ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ، تمام کنٹونمنٹ بورڈز، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ایم سی کے ماتحت ہونی چاہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، واٹر بورڈ، تمام میونسپل سروس، ڈی ایچ اے بھی کے ایم سی کے ماتحت دی جائیں۔تمام اداروں کو کے ایم سی کے ماتحت کیا جائے۔تمام میونسپل اداروں کو ایک چھتری تلے جمع کیے بغیر شہر کی حالت نہیں بدلی سکتی۔