کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سینیٹ میں قراداد متفقہ طور پر منظور


اسلام آباد(24نیوز) بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کی قرارداد سینیٹ نے متفقہ طور پر منظورکرلی۔ پنجاب یونیورسٹی میں دو طلبا تنظیموں کے درمیان تصادم اور طلبا کے زخمی ہونے پر چیرمین سینیٹ رضا ربانی کا وزیراعلی پنجاب سے رابطہ کا اعلان۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف نے رپورٹ پیش کرنے کیلئے 30 دن کی مہلت مانگ لی۔

چیرمین سینیٹ رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سینیٹر نسرین جلیل کی قراداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

پنجاب یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں میں تصادم کے معاملہ بھی سینٹ زیر بحث آیا۔ سینیٹر شاہی سید نے اس معاملے پر فلور نہ ملنے پرایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مخصوص طلباء کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے معاملہ پر وزیر اعلی پنجاب سے رابطے کا اعلان کیا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کے معاملے پر صوبائی حکومت سے بات ہوئی ہے۔

چینی کمپنی کو سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے استثنی کے معاملہ پر حزب اختلاف نے سینیٹ میں توجہ دلائو نوٹس پیش کیا۔ وزیر مملکت خزانہ رانا محمد افضل نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے ایس آر او کے ذریعے اس کی منظوری دی بعد میں کابینہ نے توثیق کی۔

چیرمین رضا ربانی نے کہا کہ سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے کہ اس طرح کے فیصلے قابل قبول نہیں۔ رضا ربانی نے احسن اقبال کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مذاق بنا رہی ہے۔ سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لۓ ملتوی کر دیا گیا۔