سیاسی رہنماؤں کے تبصرے ، انتخابی دنگل کے نتائج ملنے کا سلسلہ جاری

سیاسی رہنماؤں کے تبصرے ، انتخابی دنگل کے نتائج ملنے کا سلسلہ جاری


24نیوز:  الیکشن 2018، نتائج ملنے کا سلسلہ جاری،ابھی  بہت سے پولنگ سٹیشنز کے نتائج آنا باقی ہیں،سیاسی رہنما بھی اپنے اپنے تبصروں سے اپنے کارکنوں کو مختلف پیغام دے رہے ہیں۔

24 نیوز کے مطابق عام انتخابات 2018 میں بڑے بڑے برج الٹ گئے ۔چودھری نثار،شاہد خاقان عباسی،اسفند یار ولی ،غلام احمد بلور، فضل الرحمان ،سراج الحق بھی اپنی سیٹیں نہ بچا سکے۔آفتاب شیر پاؤ،عبدالعلیم خان ،انجم عقیل، عابد رضا، سیف الملوک کھوکھر ، علی موسیٰ گیلانی بھی ہار گئے ۔مالا کنڈ سے بلاول بھٹو زرداری کو شکست کاسامنا کرنا پڑا۔

انتخابی دنگل(نتائج)

این اے 131 کا نتیجہ سامنے آگیا۔عمران خان نے سعد رفیق کو شکست دے دی۔ عمران خان نے 84313 ووٹ حاصل کیے جبکہ سعد  رفیق 83633 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی دیکھیں

 پی پی43سیالکوٹ مسلم لیگ ن چودھری نوید اشرف 55499 ووٹ کے ساتھ کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے ناصر محمود چیمہ 38956 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے 19 صوابی سے تحریک انصاف کے عثمان خان 83903 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے وارث خان 53286 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔نیشنل و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کا اعلان 

 سیالکوٹ میں خواجہ آصف اورعثمان ڈار کے درمیان کانٹے دار مقابلہ رہا۔ این اے 73 میں پی ٹی آئی کے عثمان ڈار ایک لاکھ گیارہ ہزار 395 ووٹ لے کر پہلے جبکہ ن لیگ کے خواجہ آصف ایک لاکھ 10 ہزار 200 دوسرے نمبر پر رہے۔ 31 پولنگ اسٹیشنز کا رزلٹ ابھی باقی ہے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں۔۔۔عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہونے لگی 

 پی پی 152لاہور سے مسلم لیگ ن سے رانا مشہود احمد خان 43668 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے ارشاد ڈوگر 37143 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پی بی 29کوئٹہ سے بی این پی مینگل کے اختر حسین لانگو 12603ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ تحریک انصاف کے باری بڑیچ 6657ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی دیکھیں

قومی اسمبلی کا اہم حلقہ این اے 95 جہاں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا مقابلہ ن لیگ کے عبیداللہ خان سے تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 1لاکھ 63 ہزار 638 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ ان کے مد مقابل ن لیگ کے امیدوارعبید اللہ خان 50ہزار 15 ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔ پی ایس 130 کراچی سے تحریک انضاف کے ریاض حیدر 38500 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے امیدوار 33 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

یہ بھی لازمی دیکھیں

پی پی 76 سرگودھا سے تحریک انصاف کے چودھری فاروق فیصل چیمہ 80585 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے کامل 53421 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 61 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے عامر محمود کیانی 105000 ووٹ لے کر کامیاب، ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ابرا احمد 60125ووٹ حاصل کرسکے اور دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 29 پشاور3 پاکستان تحریک انصاف ناصر خان 49762 ووٹ کے ساتھ کامیاب رہے جبکہ  ایم ایم اے کے نعیم جان 29357 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

گوجرنوالہ میں این اے82 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ اعلان، مسلم لیگ ن کے عثمان ابراہیم 117520 ووٹ لے کر کامیاب قرار  جبکہ  تحریک انصاف کے علی اشرف مغل 67400 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
یہ بھی لازمی پڑھیں۔۔۔انتخابات 2018: تین روزکیلئے سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ 

 پی کے 55 مردان 8کےمکمل نتیجے کےمطابق مسلم لیگ ن کے جمشید خان 22447 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ تحریک انصاف کے عادل نواز 20003 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔مسلم لیگ ن کے عرفان ڈوگر  96000 ووٹ لے کر کامیاب رہے اور ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے علی سلمان 64616 ووٹ لے سکے۔

این اے 192 ڈیرہ غازی خان سے شہباز شریف ہار گئے۔ تحریک انصاف کے سردار محمد خان لغاری 80 ہزار 522 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ مسلم لیگ ن کے شہبازشریف 67 ہزار 608 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 129 کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے سردار ایازصادق 97204 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے علیم خان 90712دوسرے نمبر پر رہے.

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 سے ن لیگ کے وحید عالم خان 122327 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے. ان کی مدمقابل تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد 105857 ووٹ حاص کر سکیں.

این اے 79 گوجرانوالہ کےمکمل نتیجےکےمطابق مسلم لیگ ن کے نثار احمد چیمہ 142545 ووٹ لے کر کامیاب ہوئےجبکہ تحریک انصاف کے محمد احمد چٹھہ 115709 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے.

پنجاب سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 126 جھنگ سے تمام 210  پولنگ اسٹیشنز کا مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ موصول ہوگیا ہے۔یہاں سے آزاد امیدوار معاویہ اعظم 65252 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے ہیں ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار شیخ شیراز اکرم 32774 ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 61 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے عامر محمود کیانی 105000 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ابرا احمد 60125ووٹ حاصل کرسکے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 58راولپنڈی سے پیپلز پارٹی کے امیدوار راجہ پرویز اشرف 125090ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ن لیگ کے راجہ جاوید اخلاص 72620ووٹ حاصل کر سکے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 سے تحریک انصاف کے امیدوار غلام سرور خان 88056 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان کے مدمقابال سابق وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان 66308 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آسف نے کامیابی حاصل کر لی۔ خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کو شکست دے دی۔انہوں نے 1 لاکھ  16917 جبکہ عثمان ڈار نے 1 لاکھ 15464 ووٹ حاصل کیے۔


 سیاسی رہنماؤں کے تبصرے 

خورشید شاہ۔۔۔

پیپلزپارٹی کے رہنما سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے الیکشن نتائج جاری نا کرنے پر الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو ناکام اور ان کی خاموشی کو بے بسی قرار دیا ہے۔ سکھر میں ٹوئنٹی فور نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کے گزشتہ روز ان پر حملہ کیا گیا لیکن اب تک کسی نے نوٹس نہیں لیا۔

سابق وزیر صحت سائرہ افضل۔۔۔

حافظ آباد میں سابق وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نےہنگامی پریس کانفرنس بلوا لی۔سائرہ افضل کا کہنا تھا کہ آج کے انتخابات میں جو ہوا ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن سے جیت رہے تھے۔ ریٹرنگ آفیسر ز نے ہمارے نتائج روک رکھے ہیں۔سابق وفاقی وزیر صحت کا مزید کہنا تھا کہ  چیف الیکشن کمیشن اور سیکریٹری نتائج روکنے کے واقعہ کا فوری نوٹس لیں۔ پریزائڈنگ آفیسرز نے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو فارم45پر نتائج جاری نہیں کیے۔

جمائما خان۔۔۔

 

 عمران خان کی سابق اہلیہ ویسے تو سیاسی شخصیت نہیں لیکن  جمائما نےسیاست اور عمران خان کا ساتھ بھی کبھی نہیں چھوڑا۔ عمران خان کی جیتنے کی خوشی میں جمائما خان نے پیغام دیا کہ 22 سال کی محنت آخر رنگ لے آئی اور اب میرے بچوں کا باپ پاکستان کا وزیر اعظم بنے گا۔کپتان کی جیت کی خوشی میں جمائما خان نے ان کو مبارک باد بھی دی۔

شہباز شریف۔۔۔

شہبازشریف بیٹے سلمان شہبازکے ہمراہ اسلام آباد  روانہ ہو گئے۔ شہبازشریف اڈیالہ جیل میں نوازشریف سےملاقات کی اور  الیکشن نتائج سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت بھی کی۔

مسلم لیگ ن   جماعتی کانفرنس۔۔۔

مسلم لیگ ن نے کل اسلام آباد میں  جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔  اے پی سی میں مسلم لیگ ن کے ہم خیال سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائیگی۔ انتخابات کے بعد کی صورتحال اور آیندہ کے حکمت عملی پر غور کیا جائیگا۔

پی ٹی آئی رہنما نعیم الحق۔۔۔

پی ٹی آئی رہنما نعیم الحق کا کہنا تھا کہ عمران خان سب سے زیادہ جمہوریت پسند لیڈر ہیں ۔ وزیراعظم کا حلف اٹھا کر جمہوریت پسند حکومت کی مثال قائم کرینگے۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ منتخب کیا۔ کراچی میں پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

سر براہ مسلم لیگ ق چودھری شجاعت حسین۔۔۔

مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ  ہم نے گجرات میں چارسیٹیں جیتی ہیں۔تمام نشستوں پرہمارے امیدوار واضع اکثریت سے جیتے،پرویز الہی نے بڑی لیڈ سے اپنی نشست جیتی ہے۔

رانا ثنا اللہ۔۔۔

راناثنااللہ نے انتخابی عملے پر جانبداری کا الزام عائد کردیا۔راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ  کچھ جگہ پر ووٹ جلائے گئے، کچھ جگہ پر نئے ڈالے گئے۔الیکشن کے عمل کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔یہ نگران حکومت نہیں زیر نگرانی حکومت ہے۔الیکشن نہیں انتخابی دہشتگردی کی گئی۔

نواز شریف کا ردعمل۔۔۔

الیکشن چوری کر لیے گئے،کچھ حلقوں سے ن لیگ ہار ہی نہیں سکتی،خیبر پختنخوا میں پی ٹی آئی کو  بد ترین کارکردگی کے باوجود جتوایا گیا۔ آہندہ لائحہ عمل کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔

سعد رفیق۔۔۔

سعد رفیق کا کہنا تھا جمہوریت کو جتنا نقصان عمران خان نے پہنچایا اتنا کسی نے نہیں پہنچایا۔حکومت کرنا آسان نہیں، عمران خان کو لگ پتہ جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 14 گھنٹہ گزر گئے اب تک رزلٹ نہیں مل سکا۔