فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کےفیصلہ کو سیاہ اور غیر منصفانہ قرار دیا


کراچی(24نیوز) فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنی کنوینر شپ کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو سیاہ ، غیر منصفانہ اور غیر آئینی قرار دے دیا۔

  فاروق ستار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو سیاہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا الیکشن کمیشن کے فیصلہ کا مقصد ایم کیو ایم کو ختم کرنا ہے، انٹراپارٹی تنازعہ پر فیصلہ دینا الیکشن کمیشن کا کام نہیں۔ انھوں نے کہا کہ 23اگست 2016 کو بانی ایم کیو ایم کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا دی گئی۔ فیصلہ کا مقصد مائنس ون نہیں، ایم کیو ایم کا خاتمہ ہے، کارکنوں کی اکثریت بہادرآباد والوں کے ساتھ نہیں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے اندرونی جھگڑوں پر آج تک کوئی فیصلہ نہیں دیا ، جب جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن گئے تو انہیں کہا گیا یہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے اور جب تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کو جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ہٹا یا گیا تو وہ بھی الیکشن کمیشن گئے لیکن انہیں بھی یہ ہی جواب ملا کہ یہ ہمارا کام نہیں ،عدالت سے رجوع کریں ۔

انھوں نے کہا مجھے آئین پاکستان اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا دی گئی، اصل مسئلہ الطاف حسین کو مائنس کرنے کا نہیں بلکہ پارٹی کو مائنس کرنے کا تھا ،میں نے پارٹی کو بچا لیا اس لیے مجھے سزا دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی سازش ہے جس کے بعد تحریک انصاف ،ایم ایم اے اور پی ایس پی کو ووٹ مل جائیں گے ۔