خواجہ سرا جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور


پشاور(24نیوز) خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کے ساتھ تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، غیر سرکاری تنظیم نے خواجہ سراوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار کے متعلق پاکستان کی پہلی سپیک اپ، رپورٹ ہیٹ کے نام سے رپورٹ مرتب کر لی ہے۔

پاکستان میں بسنے والی تیسری صنف یعنی خواجہ سرا کو معاشرتی رویوں،جنسی اور جسمانی تشدد اور صنفی تضاد سمیت کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔خیبرپختونخوامیں خواجہ سراؤں کےحقوق اور تحفظ کےلئےاقدامات توکئےجارہےہیں، مگران پرتشددکےواقعات میں کوئی کمی نظرنہیں آرہی۔غیر سرکاری تنظیم بلیووینزکی رپورٹ کےمطابق خیبرپختونخوا میں گزشتہ تین سالوں میں 60 سےزائدخواجہ سراوں کوقتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ نے خیبر پختونخواہ کی ترقی کا بھانڈہ پھوڑ دیا

تنظیم کےڈائریکٹرقمرنسیم کاکہناہےکہ تین سال میں 157خواجہ سراوں کوجنسی زیادتی،310کوجنسی تشددکا نشانہ بنایاگیا۔اس دوران جسمانی تشددکے97،اغوا کے69 اوربھتے کے53واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
رپورٹ کےمطابق خواجہ سراوں پرتشدد کےصرف 19فیصد واقعات ہی رپورٹ ہوتے ہیں، اورصرف14فیصدکےمقدمات درج کئےجاتےہیں۔لیکن اب تک کسی بھی ملزم کوسزانہ ہوسکی۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔