بھارتی فوج کی درندگی انتہا کو پہنچ گئی،پانچ کشمیر یوں کو گرفتار کرکے گولیاں ماردیں


سری نگر( 24نیوز ) پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے بیچ سب سے بڑی دیوار مسئلہ کشمیر ہے، پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے تو بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتے نہیں تھکتا،آدھا کشمیر پاکستان کے پاس ہے تو اس سے کچھ زیادہ پر بھارت قابض ہے،دونوں ملکوں نے اس مسئلے کے حل کیلئے سمجھوتہ ایکسپریس،دوستی بس بھی چلائی،دو طرفہ تجارت بھی کی،ایک دوسرے کی اشیاء کی آمدوورفت کیلئے بارڈر بھی کھولے،قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا حتیٰ کہ چار جنگیں بھی لڑ کر دیکھ لیں پھر بھی یہ مسئلہ جوں کا توں ہے،دنیا اس مسئلے کو پورے خطے کیلئے خطرناک تو قرار دے رہی ہے لیکن اس کے حل کیلئے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ رہا۔

یہ بھی پڑھیں: تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان ڈاکٹر شکیل امریکہ کو دے دے:مشرف

دنیا جانتی ہے کہ بھارتی فوج کشمیر پر ناجائز اور زبردستی قابض ہے، پھر بھی کشمیر کو چھوڑنے پر بھارت کیوں تیار نہیں؟ اس کی بھی کئی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ کشمیر کی دفاعی پوزیشن ہے،جغرافیائی لحاظ کشمیر تین بڑی طاقتوں پاکستان ،چین اور بھارت کے درمیان گھرا ہوا ہے،اس کے شمال میں پامیر کی پہاڑیاں ہیں جو شمال مشرق کی طرف تبت (چین)کے علاقے سے جاملتی ہیں،جنوب کی طرف پاکستان ہے اور مشرق میں بھارت ۔مذہبی لحاظ سے یہ علاقہ مسلم اکثریتی ہے ،لداخ میں بدھ مت مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت توجموں میں ہندوں آباد کیے گئے ہیں مجموعی طور پر مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے-
جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو کشمیر میں ڈوگرا راج تھا ،تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت مسلم اکثریتی ریاستوں پر پاکستان کا حق تھا ،کشمیری پاکستان کے ساتھ ملناچاہتے تھے وہاں کاحکمران ہندو تھا جس نے کشمیریوں کی خواہش کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیااور کشمیر کا سودا بھارت کے ساتھ کردیا، ڈوگرا راج کے بعد یہاں بھارتی فوج قابض ہوئی،کچھ علاقہ تو پاکستانی فوج اور مجاہدین نے انیس سو اڑتالیس میں آزاد کروالیا جو آزاد کشمیر کہلاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی مداخلت کے باعث بقیہ حصہ ابھی تک آزاد نہیں ہوسکا۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کی قرادادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے یہاں کے باسیوں کو آزادی دینے کی حامی تو بھری لیکن آج تک ان کو آزادی نہیں دی او ر نہ ہی یہاں رائے شماری کرائی ہے۔بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی کرکے جموں کے علاقے میں ہندو آباد کرلئے،یہاں آزادی کی تحریک زور و شور سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسد درانی کی کتاب پر پاک فوج نے تحفظات کا اظہار کر دیا
کئی جہادی تنظمیں جو کشمیری نو جوانوں پر ہی مشتمل ہیں برسر پیکار ہیں۔حریت کانفرنس کے نام سے یہاں کی سیاسی جماعتیں پرامن جدوجہد بھی کررہی ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے بھارتی ہم منصب کے ساتھ لگھی گئی مشترکہ کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ جب کشمیر کے مسئلہ شروع ہوا تو ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنجیدہ اور طویل معاملہ بن جائے گا۔ یہ سب چیزیں جب شروع ہوتی ہیں تو وہ چھ ماہ، سال بھر چلتی ہیں لیکن جب وہ لمبی ہو گئی تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا اور کشمیری بغاوت پر ہمارا کنٹرول اتنا کامیاب نہیں رہا۔
بھارت کا جنگی جنون اور تھمنے کا نام نہیں لے رہا،بھارتی فوج کشمیر میں مسلمانوں کی نسلی کشی کیلئے گاجر مولی کی طرح کا ٹ رہی ہے، روز پرتشدد واقعات کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہتی ہیں،کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ایک بارپھربھارتی فورسزنے ضلع کپواڑہ میں آپریشن کے دوران 5 نوجوانوں کوگرفتارکیا اورپھرفائرنگ کرکے شہید کردیا۔نوجوانوں کی شہادت کے بعد جنت نظیروادی مکمل طورپرسوگوارہے جب کہ ضلع بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا، مظاہرین نے بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی کی جب کہ فوج نے مظاہرین کومنتشرکرنے کے لیے انسو گیس کی شیلنگ اورہوئی فائرنگ بھی کی۔
چند روز پہلے آزادی کی آواز بلند کرنیوالے پندرہ جوانوں کو ابدی نیند سلادیا گیا تھا،جب تک پاکستان اور بھارت اس مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈتے یونہی انسانیت دم توڑتی رہے گی۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں