مودی کے ہاتھوں بھارت کی تباہی

مناظرعلی

مودی کے ہاتھوں بھارت کی تباہی


بھارت دعوے توجتنے مرضی کرلے لیکن حقائق کومسخ کرنابہت ہی مشکل ہے جوپوری دنیاکونظرآتے ہیں،خاص طورپراگرہم نریندرمودی کے پچھلے دورحکومت کاہی جائزہ لیں توآپ کوبھارت اندرونی طورپر مستحکم ہونے کی بجائے بکھرتاہوانظرآئے گا،خاص طورپرہندوستانی مسلمانوں کیساتھ نامناسب رویہ،ریاست کی جانب سے مسلمانوں کو تحفظ اورانہیں برابری کی بناپرحقوق میسرنہیں آئے،ہندودھرم کولے کرجگہ جگہ معصوم مسلمانوں کاقتل عام کیاگیا،گاؤماتاکے تقدس کے نام پرناحق خون بہایاگیا اوریہ تک نہیں دیکھاگیا کہ اگرگائے ان کے نزدیک پوجاکے قابل ہے تویہ ان کاذاتی اورمذہبی معاملہ ہے،دیگرمذاہب میں اسے صرف ایک جانورسے زیادہ حیثیت نہیں اوریہی وجہ ہے کہ لوگ ذبح کرکے اس کاگوشت کھاتے ہیں،انڈین ہندو جب اپنے مذہب کوترجیح دیتے ہیں توکیابھارت سرکار دیگرمذاہب کے پیروکاروں کوآزادی سے زندگی گزارنے کیلئے تحفظ نہیں دے سکتی،کیاگائے کاگوشت کھانے سے پہلے انہیں کسی مندریاہندو رہنماسے اجازت لینے کی ضرورت ہے؟۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک مودی سرکار کے پانچ سالہ دورمیں اس وجہ سے بھی بڑھاہے کہ بھارتی ہندوؤں کواپنے وزیراعظ٘م کی سوچ کابھی علم ہے کہ وہ ایک غیرجانبدار وزیراعظم نہیں بلکہ ہندو مذہب کاایک متعصب شخص ہے لہذا اسے کوئی سروکارنہٰیں کہ کسی بھارتی مسلمان کوتنگ کیوں کیاجارہاہے حتی کہ مسلمانوں کے قتل پربھی اس کی صحت پرکوئی خاص فرق نہٰیں پڑتا۔۔ویسے توبابری مسجدکوشہیدکرنے سے لے کرآج تک صورتحال خراب ہی رہی ہے،چاہے وہ سمجھوتہ ایکسپریس میں سینکڑوں مسلمانوں کوجلانے کا افسوسناک واقعہ ہویاپھرکشمیری مسلمانوں پرظلم کے پہاڑگرانے کی بات ہو۔اپنے ہی ملک کے شہریوں پربھارتی درندگی میں دن بدن اضافہ ہی ہوا۔۔

مغرب نے دنیا کو جو طرز حکومت یعنی جمہوریت دیا ہے اُسے مثالی طرز حکومت سمجھا جاتا ہے اور جمہوری ملک کا سیکولر ہونا بھی ایک طے شدہ معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست اورسیکولر ہونے کااپنی طرف سے دعوے دار بھی ہے،البتہ سیکولرازم اپنانے کا مطلب ہے کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ قانون سب شہریوں پر یکساں لاگو ہو گا۔ زبان ، ذات، نسل اور رنگ کی بنیاد پر بھی کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہو گا۔ سیکولرازم کے ان اصولوں کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کو پرکھا جائے تو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ بھارت خاص طور پر بی جے پی کے دور کا بھارت سیکولرازم کی ضد بنا ہوا ہے۔ بھارت آج ایک ایسی انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں غیر ہندو خاص طور پر مسلمان بن کر جینا از حد مشکل ہو چکا ہے۔ ریاست کا نام ہندوستان ہونے کی وجہ سے ہندواسے صرف ہندووں کے رہنے کی جگہ سمجھتا ہے، بہرحال یہ کہنا درست ہو گا کہ سیکولرازم کے حوالے سے بھارت کا اصل چہرہ بی جے پی کے دور حکومت میں بے نقاب ہوا ہے اوردنیابھی آہستہ آہستہ یہ سمجھنا شروع ہوگئی۔اگراس ملک کی معاشی صورتحال کاجائزہ لیں توبھی واضح نظرآتاہے کہ مودی سرکار نے اپنے ملک کی معیشت کابیڑا غرق کردیاہے،پچھلے دنوں امریکی اخبارنیویارک ٹائمزنے بھی لکھاکہ"

بی جے پی دور میں معیشت پروان نہیں چڑھی جبکہ بھارت میں بےروزگاری کا 45سالہ ریکارڈ ٹوٹا ۔اخبار کے مطابق بھارت میں لاکھوں کسانوں نے احتجاج کیا ، معیشت کی تنزلی مودی سرکار نے چھپائے رکھی ۔پلوامہ حملےکےبعد پاکستان پر ہزرہ سرائی کا مودی حکومت کوبےحد فائدہ ہوا۔ لیکن بی جے پی حکومت نے بہت چالاکی سےعوام کی ساری توجہ پاک بھارت کشیدگی کی جانب مبذول کرادی۔امریکی اخبار کی رپورٹ کےمطابق نریندر مودی نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کیلئےپہلےپلوامہ اور پھر بالاکوٹ حملےکاسہارالیا ،جس کے بعدمودی کو ملک میں قوم پرستی اور حب الوطنی کو ہوا دیکرخاصافائدہ ہوا۔

جذباتی بھارتی عوام اصل معاشرتی ومعاشی مسائل سے رخ پھیر کر جنگجو مودی حکومت کے گْن گانے لگے۔بے شعور اور جذبات کی رو میں بہہ جانے والے بھارتی شہریوں کی اکثریت اس تلخ سچائی سے بھی ناواقف ہے کہ فی الوقت ان کی برّی فوج پاکستان پر حملہ نہیں کرسکتی، ناکافی جنگی سامان اور کم نفری کے باعث وہ اس قابل ہی نہیں کہ پاکستان پر دھاوا بول دے۔ خود بھارتی عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی برّی فوج صرف بیس دن تک لڑنے کا اسلحہ رکھتی ہے۔اسلحے اور عام استعمال کی اشیا کے علاوہ بھارتی فوج نفری میں کمی سے بھی پریشان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج میں 9100افسروں اور 31 ہزار فوجیوں کی کمی ہے۔

انڈیاکے حالیہ الیکشن میں اس رازسے پردہ اٹھ گیاہے کہ جوبھارت اندرونی طورپرغیرمستحکم ہوا،جہاں بیروزگاری،غربت سمیت بے شمارمسائل نے جنم لیاوہاں اب مودی سرکار کی عزت تقریبا شمشان گھاٹ تک پہنچ چکی تھی،بس آگ لگانے کی دیر تھی کہ مودی اوراس کے ساتھیوں کی استیاں کسی گنگامیں اب تک بہہ چکی ہوتیں مگربھارت میں اپوزیشن جماعتوں کوبھی شایدمودی کی اس چال کی سمجھ نہیں آئی،حالانکہ انہوں نے شور کافی مچایامگرسیاسی طورپرجوگیم مودی نے اپنی آتماکوواپس شریر میں لانے کیلئے کھیلی وہ اپوزیشن نہ کھیل سکی اوروہ تھی اپنی قوم کو پاکستان کیخلاف بھڑکا کرجنگی ماحول پیدا کرنا،،اورپھراس میں جھوٹ موٹ کے حملے کی کہانیاں گھڑکر عوام کواپنے حق میں کرلینا۔۔بحرحال انڈین عوام نے دیش بھگتی کے چکرمیں ایک بار پھرحکومت مودی کی جھولی میں ڈال دی ہے۔۔دنیا دیکھے گی کہ یہ مودی جس طرح پچھلے پانچ سالوں میں ملک کواندرسے کھوکھلا کرتارہا،اسی طرح اگلے پانچ سالوں میں اس کی رہی سہی ساکھ کابھی بیڑہ غرق کردے گا۔۔اب یہ معاملہ انڈین عوام کاہی ہے کہ اس مصیبت سے کیسے چھٹکارہ پاتے ہیں یاپھرمذہب کے نام پرایک دوسرے کو کاٹتے رہتے ہیں اورکشمیرمیں خون کی ہولی کھیلتے رہتے ہیں،اگرایساہی چلتارہاتوپھرمودی کے ہاتھوں ہی انڈیاکی تباہی ہوگی۔

بلاگر کاتعلق پنجاب کے ضلع حافظ آبادسے ہے اوروہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے پرنٹ والیکٹرانک میڈیاسےمنسلک ہیں، آج کل سٹی نیوزنیٹ ورک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور24نیوزکیلئے مستقل بلاگ لکھتے ہیں، انہوں نے"کلیدصحافت"کے نام سے صحافت کے مبتدی طلباء کیلئے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔