حیدرآبادی چوڑی نے غیر ملکی جیولری کو پیچھے چھوڑ دیا

حیدرآبادی چوڑی نے غیر ملکی جیولری کو پیچھے چھوڑ دیا


حیدرآباد(24نیوز) غیرملکی اشیا چھوڑیں، میڈان پاکستان کو دیں ترجیح، حیدرآباد کی نام والی چوڑی نے غیرملکی جیولری کو پیچھے چھوڑ دیا ، اس عید پر غیر ملکی آرٹیفشل جیولری کی فروخت کے بجائے کانچ کی چوڑی کے کام میں تیزی آگئی.

حیدرآباد میں ایسے بھی کارخانے موجود ہیں جہاں لوگ کانچ کی چوڑی پر اپنا اور اپنے احباب کا نام لکھوانے آتے ہیں ، انتہائی مہارت سے کانچ کی چوڑی پر نام لکھوا کر لوگ یہ چوڑیاں ایک دوسرے کو تحائف کے طور پر بھی دیتے ہیں۔

نام والی چوڑی کی مقبولیت نے لوگوں کا رجحان اپنی جانب اس قدر کرلیا ہے کہ لوگ غیر ملکی آرٹیفشل جیولری کو بھول کر اسی کی خریداری کی جانب رخ کررہے ہیں ، کاریگروں کے مطابق ہاتھ سے بنائی گئی یہ خاص چوڑیاں پورے ایشیا میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتیں ۔

ڈالر کی بڑھتی ہوئی اڑان کے پیش نذر حیدرآباد کے لوگ بھی غیر ملکی آرٹیفشل جیولری اور کڑے کی جگہ اب نام والی چوڑی بنوانے کو ترجیح دے رہے ہیں جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ مناسب داموں میں دستیاب ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔