استعمال شدہ سرنجوں کا گھناؤنا دھندا، بڑا انکشاف

استعمال شدہ سرنجوں کا گھناؤنا دھندا، بڑا انکشاف


اسلام آباد( 24نیوز )استعمال شدہ سرنجوں کو نئی پیکنگ میں فروخت کرنے کےگھناؤنادھندا اطلاعات پروزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نےبڑاانکشاف کردیا۔

تفصیلات کے مطابق  ڈاکٹر ظفر مرزا کاکہناتھاکہ سرنجوں کی ری پیکنگ ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، رتوڈیرومیں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک ہے، ہسپتالوں میں مریض میں انفیکشن کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے،بچوں میں ایچ آئی وی ایڈز بھی انہی انجیکشن کی وجہ سے پھیلا ہے،ابھی تک ایچ آئی وی ایڈز پھیلنے کی وجوہات تک نہیں پہنچ سکے۔

ان کاکہناتھاکہ بیرون ممالک سے ورلڈ ایکسپرٹ کی ٹیم 2 روز میں پاکستان آ رہی ہے، چند ہفتوں میں اس مرض کی وجوہات کا پتہ چل جائے گا،سکریننگ کے لیے 50 ہزار کٹس منگوا رہے ہیں، بچہ میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص پر تمام عمر میڈیسن کھانا پڑتی ہے، پاکستان میں 1 لاکھ 63 ہزار لوگ ایچ آئی وی ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں۔

ان کامزید کہناتھاکہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال مرض کے پھیلنے کی وجہ ہوسکتی ہے کیونکہ استعمال شدہ سرنجوں کو دوبارہ پیک کرکے مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے، صرف 16 ہزار لوگ رجسٹرڈ ہیں جو مستقل چیک اپ کرواتے ہیں، ہیپاٹائٹس سی پاکستان میں دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔

سندھ حکومت نے لاڑکانہ میں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر 21 ہزار 375 افراد کے خون کے نمونے حاصل کئے۔ جن میں سے 681 میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ہے، متاثرین میں  537 سے زائد بچے ہیں جن کی عمریں 2 سے 15 سال تک ہے۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER