پاک ،چین باہمی تجارت کم ہونا شروع،خسارہ بھی بڑھ گیا

پاک ،چین باہمی تجارت کم ہونا شروع،خسارہ بھی بڑھ گیا


اسلام آباد( 24نیوز ) پاکستان کی چین کے ساتھ باہمی تجارت کم ہونا شروع ہوگئی، جبکہ رواں مالی سال بھارت اور امریکا کے ساتھ دو طرفہ تجارت میں مزید اضافہ ہو گیا۔

پاکستان اور چین کی باہمی تجارت کا حجم پیٹرولیم مصنوعات کو نکال کر اب بھی سب سے زیادہ ہی ہے، تاہم رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران دونوں ملکوں کی باہمی تجارت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران پاک چین دو طرفہ تجارت کا مجموعی حجم 2 ارب ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال اس عرصے سے 30 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کم ہے، زیادہ کمی مشنری کی درآمد میں ہوئی، جبکہ اس دوران پاکستان اور بھارت کی باہمی تجارت کا حجم 33 کروڑ99 لاکھ دالر تک پہنچ گیا۔

جو گزشتہ مالی سال اس عرصے کی تجارت سے 24 فیصد زیادہ ہے، دو ماہ کے دوران پاکستان اور امریکا کی باہمی تجارت کا حجم 97 کروڑ ایک لاکھ ڈالر رہا, جو گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کی باہمی تجارت سے 4 فیصد زیادہ ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے کامرس رازاق داود کا کہنا ہے کہ سی پیک سے متعلق انکے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا، تجارتی خسارے سے متعلق چینی حکومت سے معاونت کی جا رہی ہے، پاکستان ہوزری مینوفیکچرر کے تاجر و صنعتکاروں سے ملاقات میں مشیر برائے صنعت و تجارت رزاق داود کا کہنا تھا کہ سی پیک سے متعلق ان کی رائے کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ چین اور پاکستان کے درمیان تجارتی خسارہ کم کرنے کی چینی حکومت سے معاونت کی جارہی ہے۔

اس موقع پر صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملکی برآمدت کیلئے خطرناک ثابت ہوگا، اسی لئے موجودہ گیس کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پانی اور بجلی کے نرخ میں کمی لانے کے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں بنگلہ دیش اور بھارت کا مقابلہ کرسکے۔