نیپرا نے گزشتہ حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا

نیپرا نے گزشتہ حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا


اسلام آباد(24نیوز) پاورسیکٹرمیں کھربوں روپے کی لوٹ مارکاانکشاف ہواہے,بجلی پیدانہ کرکے بھی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں 350 ارب روپے ہڑپ کرگئیں۔ نیپرا رپورٹ نے ایک بارپھربجلی کے ترسیلی اورتقسیم کے نظام کوغیرتسلی بخش قرار دے دیا.

نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری  کے مطابق  پیدواری صلاحیت کے مقابلے میں 30 فیصد بجلی استعمال ہی نہیں کی جا رہی۔ رپورٹ کے مطابق متعدد پاور پلانٹس کو مرمت اور ایندھن کی کمی کے باعث بند رکھا جاتا ہے۔ بند پاور پلانٹس کو صلاحیت کے مطابق کیپسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے دیئے جاتے رہے۔گزشتہ 3 سالوں میں 167دن پاور پلانٹس کو بند رکھا گیا،سرکاری تھرمل پاور پلانٹس نے بھی بجلی پیدا کیے بغیر 156 ارب روپے حاصل کیے، یاد رہے کہ مالی سال دوہزار پندرہ سولہ میں کیپسٹی چارجز کی مد میں 280 ارب روپے دیئے گئے۔

واضح رہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو رواں مالی سال میں بجلی پیدا کیے بغیر 490 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے، اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو گزشتہ حکومت نے 5 روپے فی یونٹ کیپسٹی چارجز کی مد میں جھونک دیئے, نیپرا رپورٹ یہ بھی بتا رہی ہے کہ ایندھن کی کمی، بجلی کا تقسیمی اور ترسیلی نظام پیدا شدہ بجلی استعمال کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔