بجٹ اجلاس، اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج کا فیصلہ


اسلام آباد(24نیوز) مہنگائی میں ہوشربا اضافہ، افراط زر میں کمی، قرضوں کا پہاڑ، ایسے حالات میں 55کھرب کا وفاقی بجٹ آج مفتاح اسماعیل پیش کریں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کا فیصلہ بھی کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے علیحدہ علیحدہ اجلاس بلوا لیے گئے ہیں ، اجلاس میں بجٹ پر بحث کی جائے گی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گی اور اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتیں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے مل کر احتجاج کی حکمت عملی تیار کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں: مشیرخزانہ مفتاح اسماعیل اوراسحاق ڈار میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

یاد رہے کہ مالی بجٹ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے پیش کرنے پر بھی اپوزیشن جماعتوں نے مخالفت کی تھی لیکن بعد ازاں اسے قبول کرلیا گیا، جس کے بعد آج بروز جمعہ شام 5 بجے قومی اسمبلی میں اجلاس طلب کیا گیا ہے ۔ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوگا۔

بجٹ میں مجموعی حجم 55 کھرب 500 ارب رکھا جائے گا۔ وصولیوں کا ہدف 44کھرب 33ارب، ترقیاتی بجٹ کا حجم 10کھرب 30ارب، بجٹ خسارہ 18 کھرب 70ارب روپے رکھے جانے کی توقع ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10سے پندرہ فیصد اضافہ بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ 2ہزار سے 16ہزار روپے ماہانہ تک یوٹیلٹی الاؤنس، ہاؤس رینٹ، میڈیکل الاؤنس میں اضافہ سمیت دیگر مراعات بھی زیر غور ہیں۔

اہم خبر: سی آئی اے کا سابق سربراہ امریکہ کا وزیر خارجہ بن گیا

مالی سال کے لئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 6.2فیصد، زرعی ترقی 3.8، اہم فصلوں کی ہدف کی 3فیصد تک توقع ہے۔ برآمدات کا ہدف 27 ارب 30 کروڑ ڈالر، درآمدات 56 ارب 50 کروڑ ڈالر اور تجارتی خسارہ کا ہدف 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔

بجٹ میں دفاع کے لیے 11سو ارب مختص کرنے کی بھی توقع ہے۔  سکیورٹی اور بے گھر افراد کی بحالی کے لیے 105ارب کی خطیر رقم مختص کی جا سکتی ہے۔