رحیم یارخان: ہسپتال میں گڈ گورننس کے دعوے انسانیت کا منہ چڑاتے رہے


رحیم یارخان (24نیوز)  شیخ زید اسپتال میں گڈگورننس کے دعوے انسانیت کا منہ چڑاتے رہے۔ ایک آکسیجن سلنڈر سے 6 بچوں کو مصنوعی تنفس پہنچایا جاتارہا۔  مائیں اسی حالت میں اپنے جگرگوشوں کو ایک وارڈ سے دوسری وارڈ میں منتقل کرتی رہیں ۔

خادم اعلیٰ کا فرمان ہے کہ انہوں نے سہولتوں سے آراستہ اسپتالوں کا پورے صوبے میں جال بچھا دیا ہے۔ مگران اسپتالوں میں عام آدمی پرکیا گذرتی ہے وہ بیان سے باہرہے۔ رحیم یارخان کا ایک جدید شیخ زید ٹیچنگ اسپتال ہے۔ جہاں ایک آکسیجن سلنڈرسے چھ شیرخواربچوں کو مصنوعی تنفس فراہم کیا جارہا۔ زندگی اورموت سے لڑتے اپنے ان جگرگوشوں کو ماؤں نے اپنی گود میں اٹھا رکھا ہے اورانہیں ایک وارڈ سے دوسری میں منتقل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سرکاری ہسپتال یزمان کا عملہ علاج کے بجائے مریضوں کی دھلائی کرنے لگا
 
مائیں آکسیجن سلنڈرسے سانس لیتے بچوں کو اٹھائے اسپتال میں گھومتی رہیں۔ اسی دوران کچھ بچوں کی آکسیجن کی نالی اتربھی گئی۔ ایک طرف یہ حقیقی ناظرہیں اوردوسری طرف خادم اعلیٰ کے دعوے ہیں جس پرکسی تبصرے کی گنجائش نہیں۔دوسری جانب ڈرگ ایکٹ 2017 کیخلاف پنجاب ڈرگسٹ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:اداسی اور ذہنی تناؤ انسانی زندگی کے لئے خطرے کی علامت کیسے؟
 
ملتان کی میڈیسن مارکیٹ میں مکمل شٹر ڈاون ہے۔ ادویات ناپید ہوگئیں۔ لواحقین اپنے پیاروں کیلئے ادویات ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔