سرکاری ملازمین، پنشنرز کیلئے وفاقی بجٹ میں دھماکہ داراعلان

سرکاری ملازمین، پنشنرز کیلئے وفاقی بجٹ میں دھماکہ داراعلان


اسلام آباد (24 نیوز) حکومت کا اگلے مالی سال کے بجٹ میں عوام کے لیے مراعات اور ٹیکسوں میں چھوٹ کا اعلان،  تاہم وزیراعظم نے 12 لاکھ روپے تک آمدنی پر انکم ٹیکس سے مکمل چھوٹ کا اعلان کیا تھا۔ بجٹ میں ان پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔

 پڑھنا مت بھولئے: مالی سال 19-2018 کیلئے59 کھرب 32 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش

24 نیوز ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بجٹ تقریر اعلان کیا کہ یکم جولائی 2018 سے سول، فوجی ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس ملے گا۔ ہاؤس رینٹ الاؤنس میں بھی 50 فیصد اضافہ کیا گیاہے۔  پنشن میں بھی 10 فیصداضافہ ہو گا، جبکہ پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر10ہزار روپےکردی گئی۔

فیملی پنشن کو 4500 روپے سے بڑھا کر 7500 کردیا گیا ہے، 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کے کےلیے کم از کم پنشن 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

تاہم کم از کم اجرت میں صرف 6.6 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، کم سے کم اجرت 16 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا۔

یہ بھی ضرو رپڑھیں: دفاعی بجٹ 19.4فیصد اضافہ کے ساتھ 11سو ارب روپے مختص

بیواؤں کے قرضہ جات کی حد ساڑھے 3 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کردی گئی ہے، جب کہ غربت کے خاتمے کے فنڈ کے لیے 68 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اسٹاف، کار ڈرائیور، ڈسپیچ رائیڈرز کےلیے اوور ٹائم الاؤنس 40 روپے فی گھنٹا سے بڑھ کر 80 روپے فی گھنٹا ہوگا۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کی 12 لاکھ روپے آمدنی تک ٹیکس میں مکمل چھوٹ سے گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد کے پیش نظر مکمل چھوٹ ختم کی جا رہی ہے۔ نئی تجاویز کے مطابق 4 سے 8 لاکھ روپے تک آمدنی پر ایک ہزار روپے اور 8 سے 12 لاکھ روپے تک آمدنی پر 2 ہزار روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں: