صرف ایک خبر ہی تو تھی

 سید امجد حسین بخاری

صرف ایک خبر ہی تو تھی


 اللہ سبحان و تعالیٰ نے قلم کی قسم کھائی ہے، قلم کی حرمت کا پاس رکھنااسی لئے شاید مشکل ہے۔سیانے کہتے ہیں تین چیزیں قدم، قلم اور قسم احتیاط سے اٹھائیں۔اب جبکہ قلم کی جگہ کی بورڈ اور موبائل فون ٹیکنالوجی نے لے لی ہے مگر تحریر کیلئے آج بھی قلم ہی کی تمثیل استعمال ہوتی ہے۔ قصہ مختصر! قلم کی حرمت کا خیال مجھے گذشتہ دنوں شائع ہونے والی ایک جھوٹی خبر سے ہوا۔ جی ہاں جھوٹی خبر۔۔ جس نے پاکستانی قوم کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔فیس بک اور واٹس ایپ پر ایک خبر جاری ہوتی ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پشاور میں پولیو ویکسین پینے سے متعدد بچوں کی حالت غیر ہوگئی جبکہ چار بچے ہلاک ہوگئے۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ مردان، مالاکنڈ اور پورے صوبے سے اسی طرح کی افواہیں آنا شروع ہوگئیں۔ رہی سہی کسرچند ٹی وی چینلز نے پوری کردی جو کہ بریکنگ نیوز کے چکر میں واٹس ایپ جرنلزم کا شکار ہوگئے۔

ماہرین صحافت کے مطابق واٹس ایپ جرنلزم کے آنے سے فیک نیوز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیو کے حوالے سے جھوٹی خبر آتے ہی صوبہ خیبر پختونخوا میں افر اتفری کی کیفیت پیدا ہوگئی، پشاور کے ہسپتالوں میں بچوں کا رش بڑھ گیا، جس جس بچے نے پولیو ویکسین پی، اس کے والدین اسے ہسپتال کی جانب لے کر بھاگنا شروع ہوگئے۔پشاور شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کا اژدھام لگ گیا۔ شہری بچوں کو لے کر پیدل ہسپتالوں کی جانب چل پڑے۔ جب خبر کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایک مقامی سکول بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری تھا۔ سکول انتظامیہ نے بچوں کی جعلی ویڈیو بنائی اور اسے وائرل کردیا۔

جس نے صوبے بھر میں افراتفری پھیلائی۔واقعے کے فوری بعد صوبائی وزیر صحت میدان میں آئے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی معصوم بیٹی کو پولیو ویکسین پلائی اور ویڈیو پیغام بھی جاری کیا۔ لیکن پولیو ویکسین کے خلاف آنے والی جھوٹی خبر کے اثرات تھم نہیں سکے۔اگلے ہی روز لاہور میں پولیو ٹیم پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔ کئی علاقوں میں پولیو ورکرز کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک ٹیم ورکر کو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ اس ساری مہم کے دوران ملک بھر میں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری پولیو مہم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔موسم سرما میں برف کے دوران پولیو ورکرز کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آنے سے مہم کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ لیکن ایک جعلی خبر نے ساری محنت پر پانی پھیر دیا۔

تازہ رپورٹ کے مطابق ملک کے چھے بڑے شہر پولیو وائرس کے گڑھ ہیں۔ جہاں پانی کے نمونوں میں وائرس کی تشخصیص ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں اس وائرس کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا۔ تادم تحریرملک بھر میں پولیو مہم کو معطل کردیا گیا، صحت کے بین الاقوامی اداروں نے مہم کیخلاف جاری پروپیگنڈے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور اس کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لیکن ایک ایسا ملک جہاں پولیو سے آگہی کیلئے تین دہائیاں صرف ہوئیں اور ایک جعلی خبر نے ساری مہم پر پانی پھیر دیا، وہیں مطلوبہ نتائج اب جلدی حاصل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ یہاں بحیثیت قوم ہمارے لئے ایک المیہ ہے کہ ہم کسی بھی خبر کو تصدیق کے بغیر پھیلادیتے ہیں جس کے نتائج ہماری نسلوں کو بھگتنا پڑ جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں ہمارا مذہب بغیر تصدیق کے کسی خبر کو پھیلانے سے منع کرتا ہے۔ لیکن ہم نہ دین اور نہ ہی دنیا کے اصولوں کی پیروکاری کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ایک بار پھر متحد ہوکر پولیو مہم کی حمایت کرنی چاہیے اور اس میں پیدا ہونے والے مسائل کا تدارک کرنے کیلئے بحیثیت قوم حتمی فیصلہ کریں۔