کون بنے گا نیا صدر ، تین امیدوارسامنے آگئے

کون بنے گا نیا صدر ، تین امیدوارسامنے آگئے


اسلام آباد(24نیوز) صدارتی الیکشن کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی،پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے نامزد امیدوار  فضل الرحمان نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئےہیں۔  ملک بھر میں صدارتی الیکشن چار ستمبر کو ہوں گے.

تفصیلات کے مطابق صدارتی الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری دن تھا جس کیلئے امیدواروں کو دوپہر 12 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت تھی۔

حکمران جماعت کی جانب سے صدارتی انتخابات کیلئے ڈاکٹر عارف علوی نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، جبکہ اپوزیشن ایک بار پھر دو ٹکڑوں میں بٹ گئی، پاکستان پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن جبکہ  میں مسلم لیگ (ن) اورباقی اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمان نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔  

پاکستان تحریک انصا ف کے سینیئر رہنماء عارف علوی نے صدارتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کروائے ،  عارف علوی نے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے لیے چار فارمز جمع کرواے. شبلی فراز، صداقت عباسی، فرخ حبیب اور انوار الحق کا کڑ تائید کنندگان میں شامل ہیں۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری,ملکا علی بخاری, عامر ڈوگر نے تجویز کنندہ کے فارمز جمع کروائے۔

کا غذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف علی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف صدارتی انتخاب بھاری اکثریت سے جیتے گی ۔فیڈریشن کے نمائندے کی بھاری اکثریت سے کامیابی اچھی بات ہے۔کراچی سے دوسری بار صدر مملکت کا آنا اتفاق کی بات ہے، مجھے کام کی عادت ہے اور فعال کردار ادا کرونگا ۔ انھوں نے کہا کہ بی این پی مینگل سے بات ہوئی ہے ،بی این پی مینگل حمایت کرے گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن شیریں رحمن ،خورشید شاہ ،نوید قمر اور قمر زمان کائرہ کے ہمراہ کاغذات نامزدگی جمع کروانے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے ۔ اعتزاز احسن نے کاغذات نامزدگی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جمع کروائے۔

اسلام آباد ہائی کور ٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پرویز رشید نے میری نامزدگی پر اعتراض اٹھایا۔آل پارٹی کانفرنس میں کسی نے پرویز رشید کے اعتراض کی حمایت نہیں کی۔میرے خلاف پرویز رشید کا بیان ن لیگ کے پارٹی پالیسی نہیں ذاتی رائے ہے۔ پرویز رشید سے ایسے اعتراض کی توقع نہیں تھی ۔اعتزاز احسن کا کہنا تھا ن لیگ فیصلہ کرے پی ٹی آئی کا امیدوار بہتر ہے یا اعتزاز احسن۔ اپوزیشن کے دو صدارتی امیدوار ہونے پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچے گا۔

اعتزاز احسن کا مزید کہنا تھا کہ دیگر جماعتوں کے مطابق میرے نام کی نامزدگی سے پہلے مشاورت نہیں کی گئی۔اگرپیپلزپارٹی سمجھتی ہےکہ مجھےصدارتی امیدوار ہونا چاہئے تو اپنے پاوں کھڑا ہوں ۔پارٹی کا فیصلہ تھا کہ میرا نام آل پارٹی کانفرنس میں تجویز کیا جائیگا۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 29 اگست بروز بدھ کو  صبح  10 بجے تک ہوگی جبکہ جمعرات تک امیدواروں کو حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔

ملک میں صدارتی الیکشن 4 ستمبر کو ہوں گے۔سینیٹرز ، قومی اسمبلی کے اراکین  اور چاروں صوبائی اراکین اسمبلی صدارتی الیکشن میں حصہ لیں گے، ووٹنگ کا عمل صبح 10 سے شام 4 بجے تک ہوگا۔

  

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔