نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس،راؤ انوار کا عدالت پیش ہونے سے انکار


کراچی(24نیوز)سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس کی سماعت میں پیش ہونے سے انکار کردیا ہے،اور کہا ہے کہ مجھے وکیل کرنے کی سہولت نہیں دی جارہی ۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود از خود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جاری ہے،کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاون میں جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کیا گیا اور سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے نقیب کے دہشت گرد ہونے کا دعویٰ کیا تھا جو غلط ثابت ہوا۔

چیف جسٹس پاکستان نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس لیا تھا اور راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں آج عدالت طلب کیا تھا۔

آئی جی سندھ کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ روز تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے'چیف جسٹس پاکستان نے آج آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، معطل ایس ایس پی راؤ انوار اور چیف سیکریٹری سندھ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

نقیب اللہ قتل کیس: آئی جی سندھ نے نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی، نقیب اللہ کے والد، تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان اور دیگر پولیس افسران بھی عدالت میں موجود ہیں۔

سپریم کورٹ میں نقیب کیس کی سماعت کے موقع پر پختون قومی جرگہ کے عمائدین عدالت کے باہر موجود ہیں،مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے ہوئے تھے جس پر نقیب اللہ کیس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

رواں ماہ 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔