راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے جمعرات تک کی مہلت


 کراچی(24نیوز) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نقیب اللہ محسود ماورائے عدالت قتل کا معاملہ، تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے رپورٹ جمع کرادی گئی، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے آئی جی سندھ کو راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے جمعرات تک کی مہلت دے دی۔ 

  سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی نے اپنی رپورٹ جمع کرادی۔ رپورٹ میں شاہ لطیف ٹاؤن پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا گیا اور بتایا گیا کہ نقیب اللہ کو تین جنوری دوہزار اٹھارہ کو دو دوستوں کیساتھ ابوالحسن اصفہانی روڈ سے اٹھایا گیا۔ نقیب اللہ ،حضرت علی اور قاسم کو اٹھانے کے بعد بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ 6 جنوری حضرت علی اور قاسم کو چھوڑ دیاگیا۔

رپورٹ کے مطابق تیرہ جنوری کو نقیب اللہ کو طے شدہ مقابلے میں قتل کردیا گیا۔ نقیب اللہ کسی دہشتگردی کی سرگرمی میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ راؤ انوار کی جانب سے جس نقیب اللہ کی رپورٹ پیش کی گئی یہ وہ نقیب اللہ نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق راؤانوار اور اسکے ساتھی جان بوجھ کر تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔ یہ طرز عمل مس کنڈکٹ اور قانون کی راہ میں رکاوٹ بننے کے مترادف ہے۔

نقیب قتل کیس کی از خود نوٹس پر سماعت کے دوران عدالت نےآئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ راؤ انوار کہاں ہیں،آئی جی سندھ نے کہا کہ وہ مفرور ہیں۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے کہا آپ آزادی سے کام کریں کسی کے دباومیں نہ آئیں، نقیب محسود قوم کا بچہ تھا۔ ریاست میں قتل عام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

نقیب کے والد محمد خان نے کہا کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کے لئے عدالتی کمیشن تشکیل دیاجائے۔ سپریم کورٹ نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں سابق ایس ایس پی راوانوارکی گرفتاری کےلئے آئی جی سندھ کو آئندہ جمعرات تک کی مہلت دیدی جبکہ راؤ انوار کے اسلام آباد ایئر پورٹ سے بیرونِ ملک جانے کی کوشش پر سول ایوی ایشن حکام کو حلف نامے جمع کرانے کاحکم دے دیا۔