اریبہ کے ساتھ اُس کے خواب بھی مرگئے

اریبہ کے ساتھ اُس کے خواب بھی مرگئے


( 24 نیوز ) اریبہ کی آنکھوں کی ڈوبتی چمک کےساتھ اُس کے خواب بھی مرگئے مگر اُس کی تربت اب بھی اپنے خوابوں کے قاتل کا پتا پوچھتی ہے ۔

اریبہ کے خواب اس کی آنکھوں میں زندگی کی دم توڑتی ہوئی چمک کے ساتھ ہی مر گئے تھے سمجھ نہیں آتا کہ اب اس کے خوابوں کا تذکرہ کریں یامرثیہ لکھیں، اریبہ کے اساتذہ کہتے ہیں کہ وہ بہت اچھی طالبہ تھی، پڑوسن بتاتی ہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اور اس کی ماں کو اسے ڈاکٹر بنانے کا جنون تھا.  چچا یادوں کی راکھ کرُیدتے ہوئے کہتا ہے کہ اریبہ گھر میں سب سے بڑی تھی اور لاڈلی بھی،  چچی نے نم آنکھو ں سے کہا کہ جب ہم کہیں جاتے تھے تو اریبہ ہمارے بچوں کو کم عمری میں ایسے سنبھالتی تھی جیسے ماں ہو۔

مگر یہ سب اب باتیں ہیں تذکرے ہیں۔ اریبہ کی تربت اب بھی اپنے خوابوں کے قاتل کا پتا پوچھتی ہے ،ہے کوئی جو قاتل کا سراغ لائے؟؟

Malik Sultan Awan

Content Writer