عمران خان کو حلقہ این اے 53 اسلام آباد ٹو سے الیکشن لڑنے کی اجازت


اسلام آباد( 24نیوز ) قومی اسمبلی کی نشست این اے 53 اسلام آباد ٹو سے ریٹرننگ افسر نے عمران خان کے کاغذات نامزدگی عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق حلف نامے کی شق 'این' کو پر نہ کرنے پر مسترد کردیے تھے جس کے خلاف ایپلٹ ٹریبونل میں سماعت ہوئی۔جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ایپلٹ ٹریبونل نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 اسلام آباد ٹو سے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

الیکشن ٹریبونل نے درخواست گزار ہارون ارشد شیخ کی جانب سے عمران خان کے خلاف اٹھائے جانے والے تمام اعتراضات مسترد کردیے۔درخواست گزار کا موقف تھا کہ عمران خان نے جو اثاثے 2013 میں ظاہر کیے وہ اب نہیں ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد عمران خان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔

یہ بھی پڑھیں:  نیب کا حسن اور حسین نواز کو انٹرپول کے ذریعہ پاکستان واپس لانے کا فیصلہ
جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ پیش ہوئے اور اپنے کاغذات نامزدگی میں شق 'این' کے خانے میں تحریر کو مکمل کیا، عمران خان نے شق 'این' میں لکھا کہ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کینسرہسپتال بنایا، نمل یونیورسٹی بنائی اور عوام کو آئینی حقوق کی جدوجہد کرنے کا شعور دیا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کو اپنے حلقے میں کیے جانے والے عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں سے متعلق بتانا ضروری قرار دیا تھا،ریٹرننگ افسران کی جانب سے اکثر امیدواروں کے کاغذات نامزدگی اس شق کو پر نہ کرنے پر مسترد کیے گئے۔