الیکشن سے پہلے ہی بڑے برج الٹ گئے


اسلام آباد( 24نیوز )ملک بھر میں عام انتخابات 25جولائی کو ہونے جارہے ہیں،الیکشن کمیشن کی طرف سے کاغذات نامزدگی پر سخت سکروٹنی کا مرحلہ جاری ہے،ایف آئی اے،نیب اور دیگر قومی اداروں سے سکروٹنی میں مدد لی جارہی ہے،اس مرحلے میں الیکشن سے پہلے ہی کئی امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے، بڑے بڑوں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے ہیں۔

عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کا آج آخری روز ہے اور ایپلٹ ٹریبونلز کی جانب سے فیصلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

راولپنڈی کے الیکشن ٹریبونل نے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کے این اے67 جہلم سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار فخر عباس کاظمی کا فواد چوہدری کے خلاف دائر درخواست میں کہنا تھا کہ فواد چوہدری نے زرعی ٹیکس ادا نہیں کیا اور ان کا شناختی کارڈ میں نام فواد احمد لکھا ہے،الیکشن ٹریبونل نے فخر عباس کاظمی کی فواد چوہدری کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔

اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے اپیلوں سے متعلق سماعت کرتے ہوئے این اے 243 سے ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے،خواجہ اظہار نے کاغذات نامزدگی این اے 243 کے بجائے این اے 242 میں جمع کرا دیے تھے۔

ویڈیو دیکھیں:

یہ بھی پڑھیں:  عمران خان کو حلقہ این اے 53 اسلام آباد ٹو سے الیکشن لڑنے کی اجازت

راولپنڈی کے ایپلٹ ٹریبونل نے این اے 64 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے امیدوار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے،غلام عباس کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض درخواست گزار قاضی عمر نے دائر کیا جن کا کہنا تھا کہ پی ٹی ائی امیدوار نے اثاثہ جات کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کئے،ایپلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس عبدالرحمان لودھی نے فریقین وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد غلام عباس کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے۔

الیکشن ایپلٹ ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے این اے 57 مری سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے،راولپنڈی کے الیکشن ایپلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس عباد الرحمان لودھی نے پی ٹی آئی کارکن مسعود احمد عباسی کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر اپیل پر سماعت مکمل کرکے دو روز قبل اس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، شاہد خاقان عباسی اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 57 سے بھی (ن) لیگ کے امیدوار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی:حلقہ این اے244کے عوام بے یارو مددگار

دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ ایپلٹ ٹریبونل نے این اے 81 سے تحریک لبیک کے مولانا اشرف آصف جلالی کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا، الیکشن ایپلٹ ٹریبونل کے جج جسٹس شہباز رضوی نے گوجرانوالہ کے حلقے این اے 81 سے مسلم لیگ (ن) کے کورنگ امیدوار عاطف فرید صابر کی اپیل پر سماعت کی،اپیل کنندہ نے موقف اپنایا کہ مولانا اشرف آصف جلالی نے کاغذات نامزدگی میں ٹیکس ریٹرن کا ذکر نہیں کیا جب کہ انہوں نے ریٹرننگ افسر کو پاسپورٹ بھی جمع نہیں کرایا اور اپنے بیرون ملک دوروں سے بھی آگاہ نہیں کیا لہٰذا وہ آئین کے آرٹیکل 62،63 کی زد میں آتے ہیں اور الیکشن لڑنے کے اہل نہیں،جسٹس شہباز رضوی نے عاطف فرید کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے آصف اشرف جلالی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کا ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے آصف اشرف جلالی کو الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک انصاف کیلئے بلوچستان اورپنجاب سے بری خبریں

واضح رہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد الیکشن کمیشن نے 19 جون کو ملک بھر میں ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل 21 ایپلٹ ٹریبونلز بنائے تھے، جہاں دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلے کے لیے 27 جون تک کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

اسلام آباد کے لیے ایک، خیبر پختوانخوا میں 6، پنجاب میں 8، سندھ میں 4 اور بلوچستان میں 2 ایپلٹ ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں،الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق امیدواروں کی نظر ثانی شدہ فہرست 28 جون کو جاری ہوگی جبکہ امیدوار 29 جون کو کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے،شیڈول کے مطابق 29جون کو ہی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی،جبکہ 30 جون کو امیدواروں کو انتخابی نشانات جاری کیے جائیں گے۔