محکمہ صحت کا ایک اور کارنامہ منظر عام پر آگیا

محکمہ صحت کا ایک اور کارنامہ منظر عام پر آگیا


لاہور(24نیوز)  محکمہ صحت  کا ایک اور کارنامہ سامنے آگیا،کرپشن کے باعث معطل ہونے والا کلرک بادستورسیٹ پہ براجمان ہے، حکمہ صحت کے ملازمین نے  بتایا کہ  محکمہ صحت  کا یحییٰ بٹ نامی کلرک دفتر کے دیگر ملازمین سے رشوت وصول کرتا تھا اور پکڑے جانے پہ معطل کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  محکمہ صحت  کے ملازمین نے  بتایا کہ  محکمہ صحت  کا یحییٰ بٹ نامی کلرک دفتر کے دیگر ملازمین سے رشوت وصول کرتا تھا اور پکڑے جانے پہ معطل کر دیا گیا۔ مگر چند روز گزرجانے کے بعد وہ دوبارہ اپنی سیٹ پہ بیٹھ کر دفتری کام سرانجام دے رہا ہے۔ یحییٰ بٹ کو سی ای او ہیلتھ نے کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ وہ معطل ہے اور ابھی بھی رشوت لے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی سول ہسپتال میں اٹینڈنٹ نے ڈاکٹر کی پٹائی کردی

  ان کا مزید کہنا تھا کہ خالد اقبال، وسیم ایاز اور سعید احمد جو کہ  محکمہ صحت  کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اوررشوت لینے میں ملوث ہے۔ اور یحیٰ بٹ کا ساتھ دے رہے ہیں اس کے خلاف کوئی  کاروائی نہیں ہو رہی۔شکایت کرنے والے ملازمین نے اپیل کی ہے کہ برطرف والے نوٹس پرعمل درآمد کیا جائے تا کہ وہ اور دیگر ملازمین سکون سے کام کر سکیں۔

 

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito