پنجاب میں اصل وزیرراناثنااللہ ہیں :چیف جسٹس ثاقب نثار


اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ میں بنی گالہ غیرقانونی اراضی کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ تعمیرات کوریگولرکریں یا پھر جرمانہ کریں، کیس میں مزید وقت نہیں دے سکتے، پنجاب میں اصل وزیرراناثنااللہ ہیں کیوں نہ انہیں بلا لیں ،مسائل کاحل نکالیں ورنہ قانون اپناراستہ خود بنائے گا۔

 تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس ثاقب نثارکا کہنا تھا کہ بوٹینیکل گارڈن میں تجاوزات ،غیرقانونی تعمیرات اور راول ڈیم میں گندے پانی کے معاملات سنگین ہیں۔تعمیرات کو یا تو ریگولرائز کیا جائے یا پھر ملوث افراد کو جرمانہ کریں۔ کیس کومزید لمبا نہیں کرسکتے فریقین کو سن کرفیصلہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:تبدیلی کے دعویدار عمران خان کیلئے 50 تولے سونے کا تاج تیار 

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے طارق فضل چودھری کے بیرون ملک ہونے کے باعث پیر تک مہلت کی استدعا کی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ تمام فریق بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے موقف اختیار کیا کہ ریگولرکرنے سے قبل سیٹلائٹ سروے کرانا ہوگا۔جس کے بعد وفاقی حکومت کوخط لکھا جائے گا۔ چیف جسٹس بولے کہ خط کے بجائے فائل لے کرخود وزارت چلے جائیں۔ ہرچیزکا حل موجود ہے صرف کام کرنے کا عزم ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت کا پرویز مشرف کی انٹرپول کے ذریعہ گرفتاری کا حکم   

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے اصل وزیر تو رانا ثنا اللہ ہیں۔ کیوں نہ انہیں بلا لیا جائے تاکہ وہ ان مسائل کاحل نکالیں۔ بصورت دیگرقانون اپناراستہ خود بنانا جانتا ہے۔ عدالت نے راول ڈیم کی سرکاری اراضی لیز پرلینے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 1 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔