عدالت کے ”پاﺅں پڑنا“ ہاشمی کو راس آگیا

عدالت کے ”پاﺅں پڑنا“ ہاشمی کو راس آگیا


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس تحریری معافی نامہ جمع کرانے کے بعد ختم کردیا،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران تمام بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے نہال ہاشمی کے بیان کو قابل مذمت قرار دے کر سپریم کورٹ سے درگزر کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے نہال ہاشمی سے تحریری معافی نامہ طلب کیا جسے جمع کرانے پر سپریم کورٹ نے معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس ختم کردیا،صدر سپریم کورٹ بار پیر خورشید کلیم نے اس موقع پر کہا کہ 'ہمارے پاس الفاظ نہیں جو اس صورتحال کو بیان کرسکیں، جو کچھ ہوا اس کی وضاحت بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی دفاع میں کچھ کہوں گا'، چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'اب آپ نرمی دکھائیں، اس میں آپ کی ذات کا معاملہ درمیان میں آگیا ہے'۔
چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ نے بھی کہا کہ 'یہ الفاظ کسی اور کے لیے بھی استعمال کیے جاتے تو قابل برداشت نہ تھے۔کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ 'میں اس کیس میں وکیل بھی رہا ہوں، مجھے نہال ہاشمی کے گھر کے حالات کا بھی علم ہے، ہم تمام بار ایسوسی ایشنز آپ سے معذرت چاہتی ہیں'۔

 یہ بھی ضرور پڑھیئے:نواز شریف اپنے کیے پر پچھتانے لگے
دوران سماعت نہال ہاشمی نے بھی عدالت عظمیٰ سے درگزر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے اپنے الفاظ پر ندامت ہے، آئندہ کبھی بھی کہیں بھی آپ سے متعلق کوئی بات نہیں کروں گا،جس پر چیف جسٹس نےکہا کہ 'میں آپ کی غلطی کی سزا آپ کے بچوں کو نہیں دے سکتا، آپ تحریری معافی نامہ دیں'، جس پر نہال ہاشمی کی جانب سے تحریری معافی نامہ جمع کرانے پر عدالت نے توہین عدالت کا نوٹس ختم کیا۔
واضح رہے کہ سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے گزشتہ برس کراچی میں ایک عدلیہ مخالف تقریر کی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا ازخود نوٹس لیا تھا۔