پاک افغان دو طرفہ تعلقات، اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا


اسلام آباد (24 نیوز) افغان اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ گیا۔ افغان وفد نے مشیر سلامتی امور جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن سرتاج عزیز سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ امور، دوطرفہ معاشی تعاون، باہمی تجارت، توانائی اور زمینی و ریلوے کے ذریعے روابط بڑھانے پر بات چیت اور تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔

24 نیوز ذرائع کے مطابق افغانستان سلامتی امور کے مشیر، این ڈی ایس چیف، فوج کے سربراہ اور وزیر داخلہ پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں مشیر سلامتی امور جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے مُلاقات کی۔ افغان مشیر سلامتی امورمحمد حنیف اتمر کی قیادت میں افغان این ڈی ایس چیف معصوم ستانکزئی، افغان فوج کے سربراہ محمد شریف یفتالی، افغان صدر کے خصوصی نمائندے حضرت عمر زاخیلوال اور وزیر داخلہ واعظ برمک بھی وفد میں شامل ہیں۔

پاک افغان قومی سلامتی مشیروں کی حالیہ مہینوں میں چوتھی ملاقات ہے، ملاقات میں دوطرفہ امور اور سیکیورٹی کے حوالے سے مل جُل کر کام کرنے کا عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: صدر مملکت نے 25 جولائی کو عام انتخابات  کرانے کی منظوری دے دی

اعلی سطحی افغان وفد نے منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز سے بھی اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد کی سربراہی افغان صدر اشرف غنی کے مشیر برائے انفراسٹرکچر و ٹیکنالوجی نے کی۔ ملاقات میں دوطرفہ معاشی تعاون، باہمی تجارت، توانائی اور زمینی و ریلوے کے ذریعے روابط بڑھانے پر بات چیت اور تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔

اس موقع سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغان عوام نے گذشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط نا مساعد اور غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا، افغان عوام کی تیز رفتار ترقی اور سماجی بہبود کے منصوبوں کی تیزی سے تکمیل وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ علاقائی اور باہمی روابط کا فروغ برق رفتار ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

پڑھنا مت بھولئے: پاکستان کا بھارت کے منہ پر ایسا طمانچہ جس کی گونج صدیوں تک یاد رکھی جائے گی

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی معاشی اور مختلف شعبوں میں ترقی کے لئے بامقصد کردار ادا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے، باہمی روابط، تجارت کے فروغ اور معیشت کے استحکام کے لئے کے لئے زمینی اور ریل راستوں کی تعمیر نہایت اہم ہے۔

دونوں ممالک کے وفود کی جانب سے معاشی فروغ کے لئے قائم ورکنگ گروپ کے رواں سال ستمبر میں ہونے والے اجلاس سے قبل سب ورکنگ گروپ کے اجلاس باقاعدگی سے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ سب ورکنگ گروپ ستمبر میں ہونے والے معاشی تعاون کے اہم اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کی سفارشات مرتب کرے گا۔