فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام، قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ نے توثیق کردی


24 نیوز: خیبرپختونخواہ اسمبلی میں فاٹا بل پیش ، اسمبلی نے بل کی توثیق کردی،92  اراکین اسمبلی نے فاٹا انضمام کی حمایت جبکہ سات اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ خیبرپختونخو اہ اسمبلی اجلاس میں نگران وزیراعلیٰ کے انتخاب پر ہنگامہ آرائی ہوئی، اپوزیشن اراکین کی جانب پیسوں لینے کے الزام پر وزیراعلی اورپوزیشن لیڈر نے وضاحت پیش کردی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام بل پاس کردیا گیا

 24 نیوزذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیرصدار ت منعقد ہوا۔ اجلاس میں فاٹا انضمام اورنگران وزیراعلی کے حوالے سے بحث ہوئی، اپوزیشن اراکین کی جانب پیسوں لینے کے الزام پر وزیراعلیٰ اورپوزیشن لیڈر نے وضاحت پیش کردی۔

یہ بھی دیکھیں: 

وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کا کہنا ہے کہ میں اور مولانا صاحب نے نگران وزیر اعلیٰ سے پیسے لئے ہیں، جس کا نہ کوئی سر نہ پیر ہیں، ایسا الزام لگانے پر افسوس ہوا ہے، الزامات نہ لگائیں میں بھی سب کو جانتا ہوں۔ جن کو اعتراض ہے وہ آئے سینیٹ میں بکنے کا ثبوت دیکھاونگا۔

پڑھنامت بھولئے: فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کا بل سینیٹ سے بھی منظور

انکا مزید کہنا تھا کہ تھانہ شرقی میں جے یو آئی کے 38کارکن گرفتار ہے۔ احتجاج کے نام پر سڑکوں کوبند کرنا ہرگز برداشت نہیں کریں گے، پولیس آزاد ہے میں نے لاٹھی چارج کے آرڈر نہیں دئیے، اگر پولیس نے غیر قانونی کام کیا ہے تو سزا ہوگی، پولیس نے قانون کے مطابق کام کیا ہے تو انہیں شاباش دونگا۔ قانون کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ رکن سردارحسین بابک کی بات پر بڑا افسوس ہوا، میں نے تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں سے رابط کیا ہے، سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر الزام لگانے پر افسوس ہوا ہے۔

یہ خبر لازمی پڑھیں: قومی اسمبلی سے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا بل منظور

مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ انتظام کے حوالے سے ہر ایک کی رائے کا احترام کیا جائے۔ مرکزی حکومت سے بات طے تھی کہ انضمام کہ صورت میں عوام سے رائے لی جائے گی، قرضوں پر ہم ملک چلا رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران ن لیگ کے پارلیمانی لیڈرسرداراورنگزیب نلوٹھا نے کہا کہ فاٹا کی عوامی کی دلی خواہش پوری ہوگئی، جب سے تبدیلی کا نعرہ لگا ایوان کا ماحول خراب ہوا، اپوزیشن لیڈر نے نگران وزیر اعلی کے لئے ہم سے نام لئے اور آگے نہیں دئیے۔ اجلاس کے دوران جے یوآئی کے اراکین نے فاٹا انضمام بل کے خلاف احتجاج کیا اوربل کی شدید مخالفت کی۔

یہ خبر پڑھنا مت بھولئے: جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ اور فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کریں گے: شاہ محمود قریشی

اسمبلی اجلاس کے دوران فاٹا انضمام بل وزیرقانون امتیاز شاہد قریشی نے پیش کی ۔ صوبائی اسمبلی نے فاٹا انضمام بل کی منظوری دیدی۔ 92 اراکین اسمبلی نے فاٹا انضمام کی حمایت جبکہ سات اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

 قبل ازیں تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر حیدر علی نے پاٹا کے حوالے سے قراردادپیش کی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پاٹا کو 10 سال تک ٹیکس چوٹ دی جائے۔ پاٹا کو بھی فاٹا کی طرح سالانہ 100 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج دیا جائے ،ایوان کی پاٹا قرارداد کی منظوری دیدی۔

اہم خبر : فیض آباد دھرنے میں فوج کا کیا کردار تھا؟ رپورٹ سامنے آگئی

یاد رہے کہ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق آئین میں اکتیسویں ترمیم سینیٹ میں منظور کر دی گئی تھی، ترمیم وزیر قانون بشیر محمود ورک نے پیش کی تھی۔

 آئینی ترمیمی بل کی حمایت میں 71 اور مخالفت میں 5 ووٹ آئے۔ حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

 لازمی پڑھیں یہ خبر: کوئٹہ میں دہتشگردوں کا وار، 2 پولیس اہلکار شہید

علاوہ ازیں وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا اصلاحات کا بل اسمبلی میں پیش کیا تھا، وزیر اعظم نے اسمبلی فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاٹا اصلاحات بل صرف حکومت کا نہیں ہے، ارکان اسمبلی کی اکثریت نے شق وار منظوری دی، عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا۔ فاٹا کے خیبر پی کے کےانضمام پر ووٹنگ مکمل ہوئی۔ جس کے فاٹا قومی دھارے کا باقاعدہ حصہ بن گیا۔ بل کی متفقہ منظوری تمام ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی،شیح رشید نے چودھری نثار کو گلے لگا لیا،امیر جماعت اسلامی سراج الحق،ن لیگی رہنما مریم نواز نے بھی مبارکباد پیش کی ہے۔

خیال رہے بل کی منظوری کیلئے 228ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف ،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے اس بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔