سانحہ کوئٹہ، سپریم کورٹ کی انکوائری کمیشن سفارشات پرعملدرآمد رپورٹ طلب


 اسلام آباد (24 نیوز): سپریم کورٹ نے سانحہ کوئٹہ پر قاضی عیسی کی رپورٹ میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے انکوائری کمیشن سفارشات پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ہے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان دلائل دیں گے۔

 

سپریم کورٹ کوئٹہ دھماکہ سانحہ از خود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی عدالت نے انڈوومنٹ فنڈ، ہاوسنگ اسکیم اور نوکریوں سے متعلقہ حصہ نمٹاتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سے انکوائری کمیشن سفارشات پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔

 

عدالت نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کمیشن رپورٹ سفارشات پر وفاقی اور صوبائی حکومت کا موقف سننا چاہتے ہیں معاملات درست سمت میں چل رہے ہیں مزید التواء کی ضرورت نہیں، انڈوومنٹ فنڈ اور ہاؤسنگ سکیم سے متعلق معاملہ حل ہونے کے قریب ہے، وکلاء کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت متحرک دکھائی دیتی ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کے متاثرین کے مسائل حل کرنے کے اقدامات کو سراہا، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے عدالت کو بتایا کہ مردان دھماکے کے متاثرین سانحہ کوئٹہ کے متاثرین کو ملنے والی سہولیات جیسا برتاؤ چاہتے ہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ہر طبقہ فکر کے لوگ نقصان اٹھارہے ہیں ہر واقعہ میں سانحہ کوئٹہ جیسا برتاؤ نہیں کرسکتے۔

 

ٹراما سنٹر بلوچستان کے حوالے سے درخواست پر جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کی تعیناتیوں کے معاملے کو ہم نہیں دیکھ سکتے ہم ہدایات دے سکتے ہیں کسی کو ہاتھ پکڑ کر نہیں چلا سکتے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ متعلقہ حکام ہدایات نہ ماننے والے ڈاکٹرز کو نوٹس جاری کریں عدالت نے قاضی فائز عیسیٰ رپورٹ میں گزارشات اور مردان دھماکہ کیس کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔