ملک کی پوزیشن خطرناک حد تک خطرے میں گھری ہوئی ہے: خورشید شاہ


اسلام آباد (24نیوز): قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کے حالات تشویشناک ہیں، ملک کی عوام پریشانی میں مبتلا ہیں۔ پیپلز پارٹی قومی حکومت کی حمایت نہیں کرتی ، ہم الیکشن وقت پر چاہتے ہیں ، قبل از وقت الیکشن یا مقررہ وقت کے بعد الیکشن کو قبول نہیں کریں گے۔ اسلام آباد دھرنے میں تاخیری ایکشن نواز شریف کی وجہ سے ہوا ہے۔

سکھر میں اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کے حالات الجھتے جا رہے ہیں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ میں اقتدار میں رہوں ، عدالت میں جسٹس کا سوال کئی سوالوں کو جنم دینے والا ہے کیا ہے کوئی سوچنے والا اور سننے والا، ملک میں گالی گلوچ کی سیاست بڑھتی جا رہی ہے اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں نے میرے آقا حضور اکرم ﷺ کا نام استعمال کیا لیکن اسی زبان سے دھرنے میں گالیاں بھی دیتے رہے ، دھرنا دینے والوں کے خلاف ایکشن میں تاخیر نواز شریف کی وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ نواز شریف یہ سمجھتے تھے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کے علاقے میں ہو رہا ہے اگر دھرنے والوں پر کوئی ایکشن ہوگا تو ساری فلم ان کے گلے میں پڑ جائے گی، خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھرنے میں اتنی دیر نواز حکومت کی نا اہلی کے باعث ہوئی ہے ، خورشید شاہ نے کہا کہ جب بھی الیکشن کا وقت آتا ہے پیپلز پارٹی کے خلاف الائنس بنتے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سکھر میں ڈیموکریٹک الائنس کا جلسہ کوئی سیاسی جلسہ نہیں تھا بلکہ 85 فیصد لوگ مرشد کا دیدار کرنے کے لیئے آئے تھے۔ جلسے میں پیپلز پارٹی کے خلاف جو باتیں کی گئی ہیں وہ انہیں کرنی تھیں وہ ہمارے اوپر پھول برسانے تو نہیں آئے تھے ، انہوں نے کہا کہ خطے میں حالات تبدیل ہورہے ہیں اس پر ہمیں مزید توجہ دینے ہوگی ، آج پاکستان نہتا کھڑا ہوا ہے۔ ملک کی پوزیشن خطرناک حد تک خطرے میں گھری ہوئی ہے ایسے میں پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو دیکھنا ہوگا ، یہاں دین کے نام پر سیاست ہو رہی ہے۔

گالی گلوچ کی سیاست اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ملک کی بڑی پارٹیاں سوچنے پر مجبور ہوگئی ہیں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور طریقے سے الیکشن میں حصہ لے گی بلاول بھٹو نے جس طرح ملک بھر میں جلسے شروع کیئے ہیں اس سے عوام میں پیپلز پارٹی کا گراف بڑھا ہے اور اب ہمارا فوکس پنجاب ہے یہ خیال بالکل غلط ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں نہیں ہے ، 2018 کے الیکش میں پیپلز پارٹی پنجاب میں نظر آئے گی اور ہم متعدد نشستوں پر کامیابی بھی حاصل کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ میں 50 سال سے پیپلز پارٹی کا کارکن ہوں اور مجھے پارٹی کا کارکن ہونے پر فخر ہے۔