صوبہ جنوبی پنجاب،حکومت نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا

صوبہ جنوبی پنجاب،حکومت نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا


تحریک انصاف کی حکومت کے سو دن مکمل ہوچکے ہیں،نئی نویلی حکومت نے اپنے ہنی مون پیریڈ میں بڑے ،بڑے وعدے مکمل کرنے کیلئے بہت تگ و دو کی،سنگ میل عبور کرنے کیلئے ہاتھ پیر مارے،کچھ وعدے پورے ہوئے تو کچھ پر یوٹرن مار لیا کیونکہ بقول وزیر اعظم عمران خان وہ لیڈ ر نہیں ہوتا جو یوٹرن نہ مارے،اس سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہوتا جو یوٹرن نہیں لیتا،پیارے قائد کے الفاظ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہیں لیکن اس پاپی پیٹ کا کیا کریں جو بھوک مٹانے کیلئے روٹی مانگتا ہے،سردی سے ٹھٹھرتا ننگا جسم کپڑے مانگتا ہے،بارش میں بھیگتے آنگن چھت مانگتے ہیں،مجبوریاں اپنی جگہ ووٹرز تو وعدوں کی تکمیل چاہتے ہیں،وزیر اعظم اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بارے میں لمبا ،چوڑا لیکچر جھاڑیں گے،سازندے ،کارندے تعریفوں کے پل باندھیں گے،کچھ فرض ہمارا بھی ہے کہ ہم بھی لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے حکمران کہاں تک کامیاب ٹھہرے؟سب وعدوں کا قصہ چھیڑا تو پڑھنے والے اکتا جائینگے ابھی صرف جنوبی پنجاب صوبے کی بات کرتے ہیں؟جنوبی پنجاب صوبہ بن پائے گا؟اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے اعلان کے مطابق صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا وقت ختم ہوچکا ہے،شاید اس وعدے کی تکمیل کیلئے پانچ سال کا وقت بھی کم پڑ جائے،اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تاریخی قدم ہو گا کیونکہ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار کسی صوبے کی تقسیم کی جائے گی،نئے صوبے کی تشکیل میں کئی طرح کی رکاوٹیں بھی ہیں جن میں سرفہرست تحریک انصاف کی قومی اور صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کا نہ ہونا ہے،اسی لئے انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کی مدد درکار ہو گی جن میں مسلم لیگ ن سر فہرست ہو گی۔ کیونکہ آئین کی دفعہ 239 کے تحت نئے صوبے کی تشکیل کے لئے ہونے والی قانون سازی کو صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی حمایت لازم ہے۔ اور اسی طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت سے منظوری لازم ہے اس کے بعد ہی نیا صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔

پنجاب میں کم ازکم 245 ارکان کی حمایت چاہیے جب کہ حکومتی اتحاد میں 188 ایم پی ایز ہیں۔ اس لئے جنوبی پنجاب صوبے کا قیام پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں،آئین کی دفعہ 239 کے تحت نئے صوبے کی تشکیل کے لئے ہونے والی قانون سازی کو صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی حمایت لازم ہے، مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے میں تین انتظامی ڈویژن شامل ہوں گے جن میں ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور شامل ہیں اوریہ تین ڈویژن گیارہ اضلاع ملتان، خانیوال، لودھراں، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور، بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاولنگر پر مشتمل ہیں،ان اضلاع کی حلقہ بندیوں کے مطابق مجوزہ جنوبی پنجاب صوبہ میں صوبائی اسمبلی کی 95 اور قومی اسمبلی کی 46 سیٹیں آتی ہیں،موجودہ پنجاب اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 371 ہے ان میں 297 منتخب ایم پی ایز اور مخصوص نشستوں پر 66خواتین اور 8غیر مسلم ایم پی ایز شامل ہیں،اگر نئے صوبے کا قیام عمل میں لایا جائے گا تو اس میں منتخب ایم پی ایز کو اپنے علاقوں کی بنیاد پر اپنے اپنے صوبوں کی اسمبلی میں جانا ہو گا۔ اس کے بعد وہاں کی نئی پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر مخصوص نشستوں کے ایم پی ایز اسمبلی میں آئیں گے۔

نئے صوبے جنوبی پنجاب اور پنجاب کی پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح سے ہو گی،یہاں 95 ایم پی ایز میں سے 53کا تعلق تحریک انصاف ، 29 کا مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی 5، مسلم لیگ ق2، ایک آزاد ایم پی اے ہیں۔ اس طرح اس نئے صوبے میں تحریک انصاف کے حکومتی اتحاد کے پاس 95 میں سے 55 سیٹیں ہیں۔ اس لئے یہاں کا وزیر اعلی اور صوبائی حکومت آسانی سے تحریک انصاف کو مل جائے گی۔لیکن دوسری طرف جنوبی پنجاب کے علاوہ رہ جانے والے پنجاب کی نئی حکومت پر تحریک انصاف کو سخت مشکلات کا سامنا ہوگا، یہاں پارٹی پوزیشن جنوبی پنجاب سے مختلف ہے،یہاں 202 ایم پی ایز میں سے 97 کا تعلق مسلم لیگ ن جب کہ تحریک انصاف کے 87، مسلم لیگ ق 6، پیپلز پارٹی ایک، راہ حق پارٹی ایک اور دو آزاد ایم پی ایز ہیں۔

یہاں تحریک انصاف کے اتحادکے پاس 95 ایم پی ایز ہیں، جن میں تحریک انصاف کے 87، مسلم لیگ ق کے 6، راہ حق پارٹی کے ایک ایم پی اے شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے97ایم پی ایز ہیں جب کہ آزاد چوہدری نثار کی حمایت بھی انہیں حاصل ہو گی۔ اس طرح 98 ایم پی ایز کے ساتھ مسلم لیگ ن بہتر پوزیشن میں ہو گی،پنجاب میں 13 صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر ضمنی الیکشن ہونا ہے، جن میں 5 سیٹیں جنوبی پنجاب میں جبکہ باقی 8 سیٹیں شمالی اور وسطی پنجاب میں ہیں۔ ان 8 سیٹیوں پر تحریک انصاف کی کارکردگی اس بات کا فیصلہ کر دے گی کہ کیا جنوبی پنجاب صوبہ بننے کے بعد بھی پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت برقرار رہ پائے گی؟

حکمران جماعت تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے صوبے کی آواز کو وقتی طور پر دبانے کے لئے وہاں کے عوام اور ارکان اسمبلی کو ”رام“ کرنے کے لئے جنوبی پنجاب میں ایک الگ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لانے کے پروگرام کا آغاز کردیا،حکومتی اقدامات سے لگتا ہے کہ یہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں نہیں ہے ،نئے سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کرکے سرائیکی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا ہے اور پانچ سال تک اسی کے پیچھے دوڑائے گی۔