سائنسدانوں نے مریخ کے پتھر زمین پر لانے کا فیصلہ کرلیا

سائنسدانوں نے مریخ کے پتھر زمین پر لانے کا فیصلہ کرلیا


واشنگٹن(ویب ڈیسک)زمین اور مریخ کے حوالے سے نئی تحقیق سامنے آگئی،ناسا اور یورپی سپیس ایجنسی (ای ایس اے) کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے کے تحت مریخ کے پتھر زمین پر لانے کے لیے ایک خلائی گاڑی بھیجے جانے کا فیصلہ زیرِ غور ہے۔

مغربی میڈیا کے مطابق سات ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کو ناسا حکام کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور رواں ہفتے ای ایس اے کے رکن ممالک کی بھی اس منصوبے پر اپنی رائے دینے کا امکان ہے۔ اس پیچیدہ سفر کو ’ مریخ سیمپل ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد مریخ سے آدھا کلو وزنی پتھر واپس زمین پر لانا ہوگا۔ اس منصوبے کے طوالت دس سال ہو گی۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ مشکل ترین کوشش صرف اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے اگر مریخ کے کچھ مخصوص حصوں سے تفصیلی جائزہ حاصل کرنے کے لیے پتھر زمین پر لائے جائیں۔ اس تجزیے سے یہ اخذ کرنے میں مدد ملے گی کہ کیا ماضی میں مریخ پر زندگی پائی جاتی تھی یا نہیں۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے کم سے کم تین بھاری راکٹس زمین سے لانچ کیے جائیں گے، اس کے علاوہ دوسرے سیارے سے بھی تاریخ میں پہلی بار راکٹ لانچ کیا جائے گا جس کا مقصد مریخ سے حاصل کیے گئے پتھروں کو زمین پر واپس لانا ہوگا۔

منصوبے کے تحت 2028 میں ایک اور گاڑی بھیجی جائے گی جو ان سیمپلز کو ڈھونڈ کر انہیں ایک راکٹ میں لوڈ کرے گی۔ جس کے بعد یہ راکٹ مریخ کی سطح سے لانچ کیا جائے گا جو کہ زمین کے مدار میں سیٹلائٹ کے ذریعے چھوڑا جائے گا۔ یہ سیمپلز امریکی ریاست اوٹاہ کے صحرائی حصے میں 2031 میں گرائے جائیں گے۔ منصوبے پر یورپی سپیس ایجنسی کی جانب سے دس سال کے دوران دیڑھ ارب پاؤنڈ یعنی ایک ارب 29 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer