’’نماز کیلئے مسجد ضروری نہیں‘‘بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ دیدیا

’’نماز کیلئے مسجد ضروری نہیں‘‘بھارتی سپریم کورٹ نے متنازعہ فیصلہ دیدیا


نئی دہلی ( 24 نیوز ) بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد سے متعلق 1994 کے فیصلے کوبرقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کہا ہے کیس پرلارجربینچ تشکیل نہیں دیاجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق 1994 کے فیصلہ میں سپریم کورٹ نے رولنگ دی تھی کہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد ضروری نہیں، نماز کہیں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ بھارتی کورٹ کا مزید کہنا تھا تمام مذہبی عبادت گاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔

عدالت نے فیصلہ بابری مسجد کی زمین کے تنازعے میں کچھ مسلم فریقوں کی جانب سے 1994 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل سننے کے لیے لارجر بنچ بنانے کی درخواست پر دیا۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعت کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ بینچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا کے علاوہ جسٹس اشوک اور جسٹس عبدالنظیر شامل تھے، فیصلہ 20 جولائی کو محفوظ کیا گیا تھا۔ 29 اکتوبر سے بابری مسجد کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ کے جسٹس نظیر نے فیصلے پر اختلافی نوٹ بھی لکھا۔