آپ مجھے قابل احترام مت کہیں، چیف جسٹس کا خواجہ سعد رفیق سے مکالمہ


لاہور (24نیوز)  چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریلوے خسارہ از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا آپ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس ہیں جس پر چیف جسٹس برہم ہوگئے اور کہا اپنے جملے میں سے قابل احترام کا لفظ نکال دیں۔قابل احترام عدالت کے اندر کہا جائے تو باہر بھی سمجھا جائے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نےریلوے میں اربوں روپے خسارے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس کے حکم پر وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پیش ہوئے۔ عدالت نے ریلوے میں خسارے کا آڈٹ کروا کے 6ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ 10سال کا آڈٹ کرائیں کارکردگی واضح ہو جائیگی،جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ آڈٹ ہمیشہ برسر اقتدار لوگوں کا ہوتا ہے، ایسا نظام واضح کرنا چاہتے کہ بعد میں آنے والا کوئی من مانی نہ کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سونم کپور اپنی شادی میں کیا انوکھا کام کرنے والی ہیں؟ جان کر آپ بھی حیران ہوجائیں گے

خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس سے کہا آپ ہمارےلیے   احترام کے قابل ہیں، آپ نے جو کیا اس میں صرف عوام کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی فائدہ حاصل ہوا ہے، ہم نے ریلوے کوبہتر بنانے کے لیے بہت محنت کی اس کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا، اب آپ بھی ہماری تعریف کرلیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ   اپنے جملے میں سے قابل احترام کو نکال دیں، عدالت میں قابل احترام کہنے سے آپ کی بات میں تضاد محسوس ہوتا ہے، قابل احترام عدالت کے اندر کہا جائے تو باہر بھی سمجھا جائے۔

اس سے قبل  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صبح سویرے ہی پنجاب انسٹیوٹ آف مینٹل ہسپتال پہنچ گئے، ثاقب نثار جب ہسپتال میں داخل ہوئے تو لوگوں نے دیکھتے ہی ان کے حق میں نعرے لگانے شروع کردیے۔ چیف جسٹس کے منع کرنے پر بھی لوگ باز نہ آئے اور نعرے بازی جاری رکھی۔

یہ بھی پڑھیں: تاجروں اور صنعت کاروں کابجٹ پرملاجلا ردِعمل
 چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نےہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا،چیف جسٹس نے مریضوں کی عیادت بھی کی۔ایک خاتون نے ادویات کی عدم دستیابی کی شکایت کی جس پر چیف جسٹس نے سخت اظہار برہمی کیا۔ کہا کہ اسپتال کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ۔ سلمان رفیق مفت ادویات کیسے ملیں گی؟ جہاں جاتا ہوں یہی مسئلہ سنتا ہوں۔ ادویات کی عدم فراہمی پر وزیر صحت سے وضاحت طلب کرلی۔
چیف جسٹس نے اسپتال انتظامیہ کو مخاطب کرکے کہا مجھے کچن بھی دکھائیں۔ دیکھتا ہوں کہ کیا انتظامات ہیں؟ چیف جسٹس نے ایم ایس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پریشان نہ ہوں جو کارکردگی ہے ابھی نظر آجائے گی۔  ابھی ہر وارڈز کا دورہ کرنا ہے۔

   چیف جسٹس نے  ہسپتال میں بھارتی خاتون کی موجودگی کا نوٹس  لیتے ہوئے کہا بھارتی خاتون یہاں کیاکر رہی ہے ، اسے واپس بھارت بھجوائیں۔

 چیف جسٹس سروسز اسپتال بھی گئے۔ مینٹل اور سروسز اسپتال کے ورک چارج اور ڈیلی ویجز ملازمین بولے کہ دس دس سال سے کام کر رہے ہیں ، مستقل نہیں کیا جا رہا ۔ جسٹس ثاقب نثار نے انہیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری بلا لیا۔