4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی:احسن اقبال

4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی:احسن اقبال


اسلام آباد( 24نیوز )وفاقی وزیر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ نہ پیش کرنا چوائس نہیں تھی، اگر 4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی، پاکستان کو اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل چاہیے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتخابات جیت کر اہداف پورے کرے گی، ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پورے سال کے تخمینوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ حکومت کی ترجیحات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے لیے بھی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 19-2018 کیلئے59 کھرب 32 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش
یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے مالی سال 19-2018 کے لیے 5 ہزار 932 ارب 50کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آوٹ کا اعلان کیا تھا،اپوزیشن کا موقف تھا کہ بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بناکر وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا حق مارا گیا، جبکہ مفتاح اسماعیل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن بھی نہیں ہیں۔